مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 632

مسیحی انفاس — Page 134

۱۳۴ کہیں اس کا بھی پتہ لگتا ہے۔اس نے صاف اقرار کیا۔قرار کیا۔کہ ہر گز نہیں ہماری توحید وہی ہے جو قرآن مجید میں ہے۔اور کوئی فرقہ ہمار انتثلیث کا قائل نہیں۔اس نے یہ کہا کہ اگر تثلیث ہوتا تو تھا۔کہیں تثلیث کے تین جو توریت کے حکموں کو چوکھٹوں اور آستینوں پر لکھنے کا حکم کا بھی ہوتا۔اس کے یہ ہے کہ باطنی شریعت میں اس کے لئے کوئی نمونہ نہیں ہے۔باطنی شریعت بجائے خود توحید چاہتی ہے۔پادری فنڈر صاحب نے اپنی کتابوں میں اعتراف کر لیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے جزیرہ میں رہتا ہو جہاں تثلیث نہیں پہنچی۔اس سے تو حید ہی کا مطالبہ ہو گا۔نہ باطنی شریعت میں اس تسلیت کا۔پس اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ باطنی شریعت توحید کو چاہتی ہے۔نہ کا کوئی نمونہ ہیں۔تثلیث کو۔کیونکہ تثلیث اگر فطرت میں ہوتی تو سوال اس کا ہونا چاہئے تھا۔پھر تیسری دلیل اس کے ابطال پر یہ ہے کہ جس قدر عناصر خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں وہ سب کردی ہیں۔پانی کا قطرہ دیکھو۔اجرام سماوی کو دیکھو۔زمین کو دیکھو۔یہ اس لیئے عناصر میں کردیت کہ کرویت میں ایک وحدت ہوتی ہے۔پس اگر خدا میں تثلیث تھی تو چاہئے تھا کہ مثلث تثلیث کو رد کرتی نما اشیاء ہوتیں۔ان سب باتوں کے علاوہ بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہے۔جو تثلیث کا قائل ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے دلائل دے۔ہم جو کچھ توحید کے متعلق یہودیوں کا تعامل با وجود اختلاف فرقوں کے اور باطنی شریعت میں اس کا اثر ہونا اور قانون قدرت میں ان کی نظیر ملنا بتاتے ہیں۔ان پر غور کرنے کے بعد اگر کوئی تقوی سے کام لے ۱۱۸ تو سمجھ لے گا کہ ثلاث پر جس قدر زور دیا گیا ہے وہ صریح ظلم ہے۔انسان کی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ کبھی غیر تسلی کی راہ اختیار نہیں کرتا۔اس لئے پگڈنڈیوں کے بجائے شاہراہ پر چلنے والے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔اور اس پر چلنے والوں کے لئے کسی قسم کا خوف وخطرہ نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس راہ کی شہادت قوی ہوتی ہے۔پس جب دنیا میں یہ ایک روز مشاہدہ میں آئی بات ہے۔پھر آخرت کی راہ قبول کرنے میں انسان کیوں غیر تسلی کی راہ اختیار کرے جس کے لئے کوئی کافی اور معتبر اور سب سے بڑھ کر زندہ شہادت موجود نہ ہو۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۰۶۱۰۵ رہے عیسائی۔سوان کا یہ حال ہے کہ وہ صریح توحید کے بر خلاف عقیدہ رکھتے