مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 632

مسیحی انفاس — Page 132

۱۳۲ تمر شکل پر آدم ہو۔دوسرا یسوع۔تیرا کبوترے اور مینوں میں سے ایک بچہ والا اور دو لاولد - کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا شیطان کے پیچھے پیچھے چلے اور شیطان اس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا طمع دے۔کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھسا ہوا تھا۔ساری رایت رو رو کر دعا کرتارہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا۔کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔حالانکہ یہود اس عقیدہ پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیث کا قائل ہو۔اگر یہود کو موسیٰ سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے۔کیا یہ بات سوچنے کے لائق نہیں کہ عیسائیوں میں قدیم سے ایک فرقہ موحد بھی ہے جو قرآن شریف کے وقت میں بھی موجود تھا۔اور وہ فرقہ بڑے زور سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے۔کہ تثلیث کا گندہ مسئلہ صرف تیسری صدی کے بعد نکلا ہے اور اب بھی اس فرقہ کے لاکھوں انسان یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں۔اور ہزار ہا کتابیں ان کی شائع ہو رہی ہیں۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ ۱ صفحه ۴۱، ۴۲ تثلیث اور یسوع کی خدائی کی بابت اگر یہودیوں سے پوچھا جاوے اور ان کی کتابوں کو سیسودی نہ تقلیت کے مولا جلوے تو صاف جواب ہے کہ وہ کبھی مخلیت کے قائل نہ تھے۔اور نہ کبھی انہوں نے مل ہیں نہ جسمانی خدا کسی جسمانی خدا کی بابت اپنی کتاب میں پڑھا تھا جو کسی عورت کے پیٹ سے عام بچوں کی طرح حیض کے خون سے پرورش پا کر نو مہینے کے بعد پیدا ہونے والا ہو۔اور انسانوں کے سارے دکھ خسرہ چیچک وغیرہ جو انسانوں کو ہوتے ہیں اٹھا کر آخر یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا ہوا صلیب پر چڑھایا جاوے گا۔اور پھر ملعون ہو کر تین دن ہاویہ میں رہے گا۔یا باپ بیٹا روح القدس کے مجموعہ اور مرکب خدا ہی کا ذکر ان کی کتابوں میں کہیں ہوتا۔اگر ہے تو ہم عیسائیوں سے ایک عرصہ سے سوال کرتے رہے ہیں۔وہ کے۔لے عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں۔حالانکہ کبوتران کا دیوتا ہے۔ان سے ہندو اچھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے۔