مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 632

مسیحی انفاس — Page 126

جبکہ یہ تینوں شخص اور تینوں کامل اور تینوں میں ارادہ کرنے کی صفت موجود ہے۔اب ارادہ کرنے والا این ارادہ کرنے والا روح القدس ارادہ کرنے والا۔تو پھر ہمیں سمجھاؤ کہ باوجود اس حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیت کیونکر اور نظیر بے حدی اور بے نظیری کی اس مقام سے کچھ تعلق نہیں رکھتی کیونکہ وہاں حقیقی تفریق قرار نہیں دی بلوجود حقیقی تفریق کے اتحاد ماہیت کیونکر گئی۔۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۸ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کی روح مخلوق تھی اور جسم بھی مخلوق تھا اور خدا تعالی اس کی اس کی روح اور اس کی طرح ان سے تعلق رکھتا تھا جیسا کہ وہ ہر جگہ موجود ہے یہ فرمانا ڈپٹی صاحب کا مجھے سمجھ جسم مخلوق ہیں ؟ نہیں آتا جبکہ حضرت مسیح ترے انسان ہی تھے اور ان میں کچھ بھی نہیں تھاتو پھر خدا تعالیٰ کا تعلق اور خدا تعالیٰ کا موجود ہونا ہر ایک جگہ پایا جاتا ہے۔پھر باوجود اس کے آپ اس بات پر بعد میں ہوئے ؟ یا نظر الہ ہیں؟ زور دیتے ہیں کہ حضرت مسیح مظہر اللہ ہیں۔میں سوچتا ہوں کہ یہ مظہر اللہ کیسے کی نظر اللہ نزول روح ہوئے۔اس سے تو لازم آیا کہ ہر ایک چیز مظہر اللہ ہے۔پھر میرا یہ سوال ہے کہ کیا یہ القدس سے قبل تھے یا مظہر اللہ ہو نا روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے ہوا یا روح القدس کے پیچھے ہوا۔اگر پیچھے ہوا تو پھر آپ کی کیا خصوصیت رہی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے لہذا اس میں وزن کیونکر ہو۔میرا جواب ہے کہ بیٹا یعنی حضرت عیسی کا اقنوم مجسم ہونا ثابت ہے کیونکہ لکھا ہے کہ کلام مجسم ہوا اور روح القدس بھی مجسم تھا کیونکہ لکھا ہے کہ کبوتر کی شکل میں اترا۔اور آپ کا خدا بھی مجسم ہے کیونکہ یعقوب سے کشتی کری اور دیکھا بھی گیا اور بیٹا اس کے داہنے ہاتھ جا بیٹھا۔پھر آپ اپنی کثرت فی الوحدت کا ذکر کرتے ہیں مگر مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کثرت حقیقی اور وحدت حقیقی کیونکر ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں اور ایک کو اعتباری ٹھہرانا آپ کا مذہب نہیں۔اس جگہ میں یہ بھی پوچھتا ہوں کہ حضرت مسیح جو مظہر اللہ ٹھہرائے گئے وہ ابتداء مظہریت دائی تھی یا سے اخیر وقت تک مظہر اللہ تھے اور دائمی طور پر ان میں مظہر نیت پائی جاتی تھی یا اتفاقی اور کبھی کبھی۔اگر دائمی تھی تو پھر آپ کو ثابت کرنا پڑے گا کہ حضرت مسیح کا علم الغیب ہونا اور قادر وغیرہ کی صفات ان میں پائے جانا یہ دائمی طور پر تھا حالانکہ انجیل شریف اس کی مکذب ہے۔مجھے بار بار بیان کرنے کی حاجت نہیں۔اتفاقی؟