مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xiv of 632

مسیحی انفاس — Page xiv

(۱۸۵۴، ۱۹۱۹ ) کی ہزیمت کا ذکر کافی ہے جو ایک مورخ حافظ نور محمد نقشبندی چشتی مالک اصبح المطابع دہلی نے اپنے شائع کر وہ قرآن کے دیباچہ میں صفحہ ۳۰ پر یوں بیان کیا۔کہ حضرت اسی زمانہ میں پادری لیفر ائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا۔عیسی کے آسمان پر جسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کر لو۔اس ترکیب سے اس نے لیفرائے کو اتنا تنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست د دی۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کے دلائل میں کتنا وزن ہے ، صحف سابقہ اور کتاب اللہ قرآن کریم نے آپ کی کیا تائید کی، تاریخ آپ کی کس قدر مؤید ہے، نظائر و قوتین قدرت نے آپ کی نصرت کے لئے کیا سامان مہیا کئے، نور عقل نے آپ کے براہین کو کس طرح تابناک بنایا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تازہ نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کس شان کے ساتھ آپ کا معین و مدد گار ہوا، یہ سب آپ آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔انشاء اللہ۔لیکن اہل علم اور صاحب فکر و تدبر اصحاب نے آپ کے اس عظیم الشان کام کا جو جائزہ لیا اس کی ایک دو نظیریں پیش کی جاتی ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے اپنے مفوضہ کام کو کس عظمت اور شوکت کے ساتھ پورا فرمایا۔بر صغیر پاک و ہند کے ایک ممتاز ادیب اور مشہور مذہبی و قومی رہنما مولانا ابو الکلام آزاد نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے اس جہاد کا ان حقیقت افروز الفاظ میں ذکر کیا کہ : وو وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نیا منسیا نہیں ہو سکتا جب کہ اسلام مخالفین کی