مسیحی انفاس — Page 118
رہے۔پکڑے کہ وہی ہو جائے۔" سوالیسا انسان اس کو یسوع سے پہلے کوئی نہ ملا۔اور نوع انسان کا ایک لمبا سلسلہ جو یسوع سے پہلے چلا آتا تھا اس میں اس صفت کا آدمی کوئی نہ پایا گیا۔آخر یسوع پیدا ہوا اور وہ اس صفت کا آدمی تھا۔لہذا اقنوم ثانی نے اس سے تعو یحیت پیدا کیا اور یسوع اور اقنوم ثانی ایک ہو گئے اور جسم ان کے لئے ایک لازمی صفت ٹھتری جو ابد الآباد تک کبھی منفک نہیں ہوگی اور اس طرح پر ایک جسمانی خدا بن گیا۔یعنی یسوع اور دوسری طرف روح القدس بھی جسمانی طور پر ظاہر ہوا اور وہ کبوترین گیا۔اب عیسائیوں کے نزدیک خدا سے مراد کبوتر اور یہ انسان ہے جو یسوع کہلاتا تھا۔اور جو کچھ ہیں یہی دونوں ہیں۔اور باپ کا وجود بجز ان کے کچھ بھی جسمانی طور پر نہیں۔پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ " توحید نجات کے لئے کافی نہیں تھی جب تک اقنوم ثلا نوم ثانی مجسم ہو کر تولد کی معمولی راہ سے پیدا نہ ہوتا۔اور اقنوم ثانی کا مجسم ہونا کافی نہیں تھا۔جب تک اس پر موت نہ آتی اور موت کافی نہیں تھی جب تک اس مجسم اقنوم ثانی پر جو یسوع کہلاتا تھا تمام دنیا کی لعنت نہ ڈالی جاتی۔" پس تمام مدار عیسائیت کا ان کے خدا کی لعنتی موت پر ہے۔غرض ان کے نزدیک خدا کا وجود ان کے لئے ہر گز مفید نہیں جب تک یہ تمام۔مصیبتیں اور ذلتیں اس پر نہ پڑیں۔پس ایسا خدا نہایت ہی قابل رحم ہے جس کو سائیوں کے لئے اس قدر مصیبتیں اٹھانی پڑیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اقنوم خانی کا تعلق جو حضرت یسوع سے اتحاد اور عینیت کے طور سے تھا یہ پاک ہونے اور پاک رہنے کی شرط سے تھا۔اور اگر وہ گناہ سے پاک نہ ہوتا یا آئندہ پاک نہ رہ سکتا تو یہ تعلقی بھی نہ رہتا۔" پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ تعلق کسی ہے ذاتی نہیں ہے۔اور اس قاعدہ کی رو سے فرض کر سکتے ہیں کہ ہر ایک شخص جو پاک رہے وہ بلا تامل خدا بن سکتا ہے۔اور یہ کہنا کہ ” بجز یسوع کسی دوسرے شخص کا گناہ سے پاک رہنا ممتنع ہے۔" یہ دعوی بلا دلیل ہے اس لئے قابل تسلیم نہیں۔عیسائی خود قائل ہیں کہ ملک صدق سالم بھی جو مسیح سے بہت عرصہ پہلے گزر چکا ہے گناہ سے پاک تھا۔پس پہلا حق خدا بنے کا اس کو حاصل تھا۔ایسا ہی عیسائی لوگ فرشتوں کا بھی کوئی گناہ ثابت نہیں کر سکتے پس وہ بھی بوجہ اولیٰ خدا بننے کے لئے استحقاق رکھتے ہیں۔۱۱۸