مسیحی انفاس — Page 117
112 تثلیث کا عقیدہ بھی ایک عجیب عقیدہ ہے۔کیا کسی نے سنا ہے کہ مستقل طور پر اور کامل طور پر تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو اور ایک بھی کامل خدا اور تین بھی کامل خدا ایک تمین اور تیمن ہو۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۴۸ عقل کا فیصلہ تو ہمیشہ کلی ہوتا ہے۔اگر عقل کی رو سے حضرت مسیح کے لئے داخل ایک۔تثلیث ہو نا روا رکھا جائے تو پھر عقل اوروں کے لئے بھی امکان اس کا واجب کرے اوروں کے لئے بھی گی۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۵۰ امکان۔خاصہ ہے۔چونکہ نصاری کا فتنہ سب سے بڑا ہے اس واسطے اللہ تعالٰی نے ایک سورۃ قرآن شریف کی تو ساری کی ساری صرف ان کے متعلق خاص کر دی ہے۔یعنی سورہ اخلاص اور کوئی احتیاج اقوم محلاثہ کا سورۃ ساری کی ساری کسی قوم کے واسطے خاص نہیں ہے۔احد خدا کا اسم ہے اور احد کا مفہوم واحد سے بڑھ کر ہے۔مسند کے معنی ہیں ازل سے غنی بالذات جو بالکل محتاج نہ ہو۔اقنوم ثلاثہ کے ماننے سے وہ محتاج پڑتا ہے۔ملفوظات۔جلد ۲ صفحہ ۲۴۶ ۲۴۷ جوانجیل نے خدا تعالیٰ کی نسبت اعتقاد سکھایا ہے وہ اور بھی انسان کو اس سے متنفر کرتا ہے۔عیسائیوں کا عقیدہ جو انجیل پر تھایا جاتا ہے یہ ہے کہ ”اقنوم ثانی جو ابن اللہ کہلاتا اپنینم ثلاثہ پر تبصرہ۔ہے وہ قدیم سے اس بات کا خواہش مند تھا کہ کسی انسان کو بے گناہ پاکر اس سے ایسا تعلق