مسیحی انفاس — Page 102
ہوں اور جو ان کے حق میں کہا گیاوہ ہی میرے حق میں کہا گیا۔اور کیا یہودیوں کا الزام اس طور کے رکیک عذر سے حضرت مسیح کے سر پر سے دور ہو سکتا تھا۔اور کیا انہوں نے یہ تسلیم کیا ہوا تھا کہ حضرت مسیح اپنی خدائی کی وجہ سے تو بے شک ابن اللہ ہی ہیں اس میں ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہاں انسان ہونے کی وجہ میں کیوں اپنے تئیں ابن اللہ کہلاتے ہیں بلکہ صاف ظاہر ہے کہ اگر یہودیوں کے دل میں صرف اتنا ہی ہوتا کہ حضرت مسیح محض انسان ہونے کی وجہ سے دوسرے مقدس اور مخصوص انسانوں کی طرح اپنے تئیں ابن اللہ قرار دیتے ہیں تو وہ کافر ہی کیوں ٹھہراتے۔کیا وہ حضرت اسرائیل کو اور حضرت آدم اور این اللہ ہونے کے دوسرے نبیوں کو جن کے حق میں ابن اللہ کے لفظ آئے ہیں کافر خیال کرتے تھے۔نہیں ثبوت کے لئے پیش بلکہ سوال ان کا تو یہی تھا کہ ان کو بھی دھوکا لگا تھا کہ حضرت مسیح حقیقت میں اپنے تئیں اللہ گوئیاں پیش کرنی چاہئیں تھیں۔کا بیٹا سمجھتے ہیں اور چونکہ جواب مطابق سوال چاہئے اس لئے حضرت مسیح کا فرض تھا کہ وہ ان کے جواب میں وہی طریق اختیار کرتے جس طریق کے لئے ان کا استفسار تھا۔اگر حقیقت میں خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے تو وہ پیش گوئیاں جو ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب بعد از وقت اس مجلس میں پیش کر رہے ہیں کے سامنے پیش کرتے اور چند نمونہ خدا ہونے کے دکھلا دیتے تو فیصلہ ہو جاتا۔یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ یہودیوں کا سوال حقیقی ابن اللہ کے دلائل دریافت کرنے کے لئے نہیں تھا۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۳ اے عزیز و اور پیارو! اس جگہ راستی کی حمایت اس بیان کے لئے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے بارہ میں حضرات مسیحیوں کے ہاتھ میں کوئی امر صاف نہیں ہے۔وحی کے سلسلہ پر تو پہلے سے مہر لگ چکی ہے اور صحیح اور حواریوں کے بعد مجربات بھی بند ہو گئے ہیں۔رہا عقلی طریق ، سو آدم زاد کو خدا بنانے میں وہ طریق بھی ہاتھ سے گیا اور اگر گذشته معجزات جواب محض قصوں کے رنگ میں ہیں پیش کئے جائیں تو اول تو ہر ایک منکر کہہ سکتا ہے کہ خدا جانے ان کی اصل حقیقت کیا ہے اور کس قدر مبالغہ ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ مبالغہ کرنا انجیل نویسوں کی عادت میں داخل تھا۔چنانچہ ایک انجیل میں یہ فقرہ موجود ہے کہ مسیح نے اتنے کام کئے کہ اگر وہ لکھے جاتے تو وہ دنیا میں سمانہ سکتے اب دیکھو وہ کام بغیر لکھنے کے تو دنیا میں سما گئے۔لیکن لکھنے کی حالت میں وہ