مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 632

مسیحی انفاس — Page 83

۸۳ جس کا سرچشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزمان اور مجدد الوقت ہوتا ہے۔اصل وارث ان نشانوں کے انبیاء علیہم السلام ہیں۔پھر جب ان کے معجزبات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہو کر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنیوالوں کے لئے نبوت کے عجائب کر شمے بطور منقول ہو گر مردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔غرض خدا تعالیٰ کے وجود اور راہ راست پر یقین لانے کے لئے یہی تین طریقے ہیں جن کے ذریعہ سے انسان تمام شبہات سے نجات پاتا ہے۔اگر خدا کی کتاب اور اس کے مندرجہ معجزات اور نشان اور ہدایتیں جو اس زمانہ کے عام لوگوں کی نظر میں بطور منقول کے ہیں کسی پر مشتبہ رہیں تو ہزاروں عقلی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں اور عقلی دلائل بھی کسی سادہ لوح پر مشتبہ رہیں تو پھر ڈھونڈنے والوں کے لئے آسمانی نشان بھی موجود ہیں۔لیکن بڑے بد قسمت وہ لوگ ہیں کہ جو باوجود ان تینوں راہوں کے کھلے ہونے کے پھر بھی ہدایت پانے سے بے نہ رہتے ہیں۔اور رحقیقت ہمارے اندرونی اور بیرونی مخالف اسی قسم کے ہیں۔مثلاً اس زمانہ کے مولویوں کو بار بار قرآن اور احادیث سے دکھلایا گیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔پھر عقلی طور پر ان کو شرم دلائی گئی کہ یہ عقیدہ تمہارا عقل کے بھی سراسر مخالف ہے۔تمہارے ہاتھ میں اس بات کی کوئی نظیر نہیں کہ اس سے پہلے کوئی آسمان سے بھی اترا ہے۔پھر آسمانی نشان متواتر ان کو دکھلائے گئے اور خدا کی حجت ان پر پوری ہوئی۔لیکن تعصب ایسی بلا ہے کہ یہ لوگ اب تک اس فاسد عقیدہ کو نہیں چھوڑتے۔ایسا ہی پادری صاحبان بھی ان تینوں طریقوں کے ذریعہ ہمارے ملزم ہیں۔مگر پھر بھی اپنے بے اصل عقائد کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور نہایت ہی سکتے اور بے جان خیلات پر گرے جاتے ہیں۔اور وسائل ثلثہ مذکورہ کے رو سے وہ اس طرح ملزم ٹھہرتے ہیں کہ اگر مثلاً ان کے اس جسمانی اور محدود خدا کا جس کا نام وہ یسوع رکھتے ہیں پہلی تعلیموں سے پتہ تلاش کیا جائے یا یہودیوں کے اظہار لئے جائیں تو ایک ذرہ سی بھی ایسی تعلیم نہیں ملے گی جس نے ایسے خدا کا نقشہ کھینچ کر دکھلایا ہو۔اگر یہودیوں کو یہ تعلیم دی جاتی تو ممکن نہ تھا کہ ان کے تمام فرقے اس ضروری تعلیم کو جوان کی نجات کامدار تھی