حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 4 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 4

4 3 نے اپنے اس پیارے بندے کو آنے والے زمانہ کی خبریں دیں اور پھر آپ نے اسی وقت ان کا اعلان بھی کر دیا اور دُنیا کو بتا دیا کہ خدا نے مجھے یہ خبر دی ہے اور اب یہ بات ضرور پوری ہو کر رہے گی۔اور وقت آنے پر وہ سب باتیں پوری بھی ہو گئیں۔بے شمار پیشگوئیاں آپ نے اپنی کتابوں میں شائع کیں۔بعض کے متعلق آپ نے اپنے دوستوں کو بتایا۔بعض کے بارہ میں آپ نے مخالفین کو بھی بتادیا تا کہ انہیں بعد میں یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ یہ یونہی دھوکہ یا فریب تھا۔یا پہلے تو بتایا نہیں اور جب واقعہ ہو گیا تو کہہ دیا کہ میں نے یہ پیشگوئی کی تھی۔تو یہ تو پیشگوئی نہ ہوئی۔اور نہ اسے پیشگوئی کہتے ہیں۔اس طرح تو بعض نجومی وغیرہ بھی بتا دیتے ہیں۔پھر بھی نجومی یہ بات کبھی نہیں کہتے اور نہ کہہ سکتے ہیں، کہ خدا نے انہیں یہ بات بتائی ہے اور یہی فرق خدا کے نبی اور عام نجومی یا دوسرے لوگوں میں ہوتا ہے۔کہ خدا کا نبی خدا سے خبر پاتا ہے اور پھر اس کے مطابق دنیا کو بتا تا ہے اور اعلان کرتا ہے اور اسے پورا یقین ہوتا ہے اسی لیے اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور وہ پیشگوئی جو خدا نے اسے بتائی ہے وہ عین وقت پر بڑی شان اور شوکت سے پوری ہوتی ہے اور اس کی سچائی کو ثابت کرتی ہے جس سے خدا کی شان دنیا کو نظر آجاتی ہے۔کچی پیشگوئی اور سچا الہام کیسا ہوتا ہے؟ اس کے متعلق یہ بات تم ہمیشہ یادرکھو کہ اس قسم کے کلام میں ہمیشہ شان وشوکت اور برکت ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ایک نور ہوتا ہے۔ایک روشنی ہوتی ہے اور جسے یہ نور دیا جاتا ہے اُسے پھر ان باتوں کے بارہ میں یقین سے بھر دیا جاتا ہے۔اور اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کا کلام یا بات جو خدا اپنے بندے سے کرتا ہے اور اس میں کوئی پیشگوئی ہوتی ہے تو پھر اس قسم کی پیشگوئی کا اثر دور دور تک پڑتا ہے اور یہ ہر لحاظ سے بے نظیر ہوتی ہے اور پھر اس میں خدا تعالیٰ کا بڑا رعب نظر آتا ہے۔خدا کی مدد اس کے ساتھ ہوتی ہے۔بعض اوقات پیشگوئی اس کے اپنے لیے ہوتی ہے اور کبھی اس کی بیوی اور بچوں کے لیے ہوتی ہے اور کبھی اس کے دوستوں کے لیے ہوتی ہے اور کبھی دشمنوں کے لیے اور بعض اوقات ساری دُنیا کے لیے ہوتی ہے۔اور خدا کا وہ پیارا بندہ بڑی چھپی ہوئی اور مخفی باتوں کو دیکھ لیتا ہے۔اور اکثر اوقات اسے تحریر میں دکھائی جاتی ہیں اور کبھی دور دراز کی چیزیں پوری اس کے سامنے آجاتی ہیں گویا کہ وہ انہیں اپنے پاس ہی پڑی ہوئی دیکھ رہا ہے۔اور پھر اس کے کانوں کو بھی ایسی طاقت دی جاتی ہے کہ وہ خدا کے فرشتوں کی آوازیں سنتا ہے اور تسلی ، اطمینان اور سکون پاتا ہے اور اس کے دل کو ایسی قوت دی جاتی ہے کہ بے شمار با تیں اس کے دل میں پڑ جاتی ہیں جو بالکل صحیح ہوتی ہیں۔بچو! تم یوں سمجھ لو کہ اُس کی زبان پھر خدا کی زبان ہوتی ہے۔اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور جو کچھ اُس کی زبان بولتی ہے وہ خدا کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔اور پھر اس پر ایک نور ہی نور ہوتا ہے۔جسے ایک نہ ماننے والا بھی محسوس کر سکتا ہے۔اُس کا تو پہنا ہوا کپڑا بھی برکتوں سے بھر جاتا ہے۔اور اکثر اوقات تو اس شخص کو چھونا بھی برکت اور رحمت کا باعث ہو جاتا ہے اور جس جگہ وہ رہتا ہے خدا اس جگہ میں بھی رحمتیں اور برکتیں رکھ دیتا ہے۔اس کے گاؤں اور شہر کو خاص برکت عطا کی جاتی ہے۔اور دیکھو کہ یہ بات کیسی عجیب ہے کہ جن لوگوں سے وہ خوش ہوتا ہے خدا ان کو ترقی دیتا ہے ان کو مصیبتوں اور بلاؤں سے بچاتا ہے لیکن وہ جن سے ناراض ہوتا ہے ان کی تباہی اور بربادی میں کوئی شک نہیں رہتا۔اس کی دعا معمولی دعا بھی نہیں ہوتی اور جس شخص کے لیے وہ دعا کرتا ہے اس کی مصیبتیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔پیارے بچو! یہ باتیں تم نے پڑھ لیں تو اب اس کے بعد ہم آپ کو یہ بات سمجھاتے ہیں کہ اس زمانہ کی اصلاح کے لیے حضرت مرزا غلام احمد صاحب تشریف لائے وہ مسیح موعود بھی تھے اور خدا کے نبی بھی۔خدا نے ان سے پیار کیا اور انہوں نے خدا سے محبت کی جس www۔alislam۔org