حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 3 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 3

2 1 بسم الله الرحمن الرحیم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں ہم اس چھوٹی سی کتاب میں آپ کو بہت ہی ضروری مضمون بتا ئیں گے۔اگر آپ نے غور سے اس کا مطالعہ کیا تو ہمیں امید ہے کہ اس کے سمجھ جانے سے اور کئی مضمون بھی آپ کی سمجھ میں آجائیں گے۔ہمارا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے بارہ میں ہے۔آپ کو یہ تو پتہ ہی ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کون تھے؟ کب پیدا ہوئے اور کب فوت ہوئے؟ اس دنیا میں آپ کے تشریف لانے کا کیا مقصد تھا اور آپ نے کون کون سے کارنامے سرانجام دیئے ؟ لیکن اس کتاب میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی چند پیشگوئیوں کے بارہ میں بتائیں گے۔تا کہ آپ کو یہ بھی علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے تو انہیں ایسے ایسے راز بتاتا ہے جو دنیا میں کسی اور کو معلوم نہیں ہوتے۔وہ اس بندے کو بعد میں آنے والے زمانے کی خبریں بتاتا ہے جس کے پتہ کرنے کی انسان کو ہر گز طاقت نہیں دی گئی۔تم خود ہی سوچ کر دیکھ لو کیا تمہیں یہ معلوم ہے کہ کوئی بیمار شفا پا جائے گا یا فوت ہو جائے گا ؟ مقدمہ میں ہم جیت جائیں گے یا ہمارا مخالف جیت جائے گا ؟ کیا اس سال سیلاب آئے گا یا نہیں؟ ہم تو صرف اندازہ ہی لگاتے ہیں کہ آج دھوپ نکلی ہے۔اور گرمی کا موسم ہے تو کل بھی دھوپ نکلے گی۔لیکن تم نے یہ بھی تو دیکھا ہوگا کہ یکا یک بادل آئے اور بارش ہوگئی۔ہم بیمار کی صحت یابی کے لیے پوری کوشش کرتے ہیں۔اُس کے لیے ڈاکٹر کو بلاتے ہیں۔دوائی خرید کر لاتے ہیں۔اُس کی خوراک میں احتیاط کرتے ہیں۔جس سے ہمیں یہ امید ہو جاتی ہے کہ مریض اچھا ہو جائے گا۔لیکن ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ ضرور اچھا ہو جائے گا۔کئی بار ہم نے ایسا بھی دیکھا ہے اور تم نے بھی دیکھا ہوگا کہ معمولی سی بیماری تھی اچھے سے اچھا ڈاکٹر بلایا تھا۔احتیاط بھی کی جارہی تھی۔لیکن مریض اچانک فوت ہو گیا۔کئی بار مقدموں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہم مقدمہ ضرور جیت جائیں گے۔ہمارے دلائل بڑے مضبوط ہیں۔لیکن ہوتا یہ ہے کہ ان سب باتوں کے باوجود ہم مقدمہ ہار جاتے ہیں۔بس یہ اندازے ہی ہوتے ہیں یقینی بات نہیں ہوتی۔اسی سے تو انسان کی بے بسی کا پتہ چلتا ہے لیکن جب خدا اپنے بندے کو یہ بتادیتا ہے کہ یہ مریض اچھا ہو جائے گا۔تو خواہ وہ شخص کتنا ہی بیمار کیوں نہ ہو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ مریض جسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب یہ موت کے منہ میں ہے اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں اور یہ آج نہیں تو کل مرجائے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس بیماری سے شفا پا جاتا ہے اور یہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ خدا نے ایسا کہا اور خدا کی بات کو دنیا کی کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی۔اسی طرح اگر خدا اپنے بندے کو یہ بتادے کہ اس مقدمہ میں فتح ہو گی تو خواہ مخالف کتنا ہی زور لگا ئیں۔حج کیسا ہی دشمن کیوں نہ ہو اس مقدمہ میں ہرگز شکست نہیں ہوگی۔اسے کہتے ہیں خدا کی خدائی۔اور خدا جب کسی بندے کو کثرت سے غیب کی خبریں دیتا ہے، جو پوری ہوتی چلی جاتی ہیں تو پھر اسے نبی کہا جاتا ہے۔بچو! نبی عربی کا لفظ ہے۔اور اس کے متعلق اگر تم کسی عربی ڈکشنری میں معنی دیکھو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ خدا تعالیٰ جس کو کثرت سے غیب کی خبریں دیتا ہے وہ نبی ہی ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے کثرت کے ساتھ غیب کی خبریں دیں۔آپ نے سینکڑوں پیشگوئیاں فرما ئیں اور خدا کے حکم سے ہی یہ باتیں بیان کیں اور یہ سب کی سب اپنے وقت پر پوری ہوئیں اور سچی ثابت ہوئیں۔اس چھوٹی سی کتاب میں ہم آپ کو چند ایسی پیشگوئیاں بتا ئیں گے جن سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ کس طرح خدا تعالیٰ www۔alislam۔org