حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 20 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 20

36 35 ☆ اب ایک اور عظیم الشان نشان کا حال پڑھو۔امریکہ کے مشہور شہر شکاگو کے پاس ایک شہر میحون آباد ہے۔یہ شہر ایک شخص پادری جان الیگزینڈرڈوئی نے آباد کیا تھا۔یہ شخص اسلام کا بڑا دشمن تھا۔اُس نے پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھتا تھا۔اور آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ دین اسلام جلد سے جلد ختم کر دیا جائے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھتا تھا اور عیسائیت کو پھیلانے کے لیے سخت کوشش کرتا۔اس کا اپنا ایک اخبار بھی تھا جس کا نام ”نیوز آف ہیلنگ“ رکھا ہوا تھا۔ایک مرتبہ اس نے اپنے اس اخبار میں 19 دسمبر 1903ء میں لکھا کہ :- میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ دن جلد آوے کہ اسلام دنیا سے نابود ہو جاوے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔اے خدا اسلام کو ہلاک کر دے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ میں نے پادریوں کی سینکڑوں کتا ہیں دیکھی ہیں مگر ایسا جوش کسی میں نہیں پایا جتنا کہ ڈاکٹر ڈوئی میں ہے۔اس نے اپنے اسی اخبار میں 12 دسمبر 1903ء میں لکھا کہ:- اگر میں سچا نبی نہیں ہوں تو پھر روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو خدا کا نبی ہو۔اس کے علاوہ وہ سخت مشرک تھا اور کہتا تھا کہ مجھ کو الہام ہو چکا ہے کہ ۲۵ برس تک حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے اتر آئیں گے۔یه شخص در حقیقت حضرت عیسی کو خدا سمجھتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت دشمن تھا اور یہی بات تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو بہت دکھ دیا کرتی تھی۔جب اس کی بدزبانی اور گالیاں اور تلخ کلامی انتہا کو پہنچ گئی تو حضور علیہ السلام نے اسے ایک خط لکھا اور کہا کہ تم میرے لیے دعا کرو اور میں تمہارے لیے کہ خدا تعالیٰ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اسے بچے کی زندگی میں ختم کر دے اور ہلاک کر دے۔اور یہ خط ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ بھجوایا اور امریکہ کے بعض اخباروں میں بھی یہ چیلنج شائع ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی“ میں ایسے بتیس اخباروں کے نام لکھے ہیں جن میں یہ چیلنج شائع ہوا اور اس کو اخباروں میں شائع کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی نے حضور کے دونوں خطوں کا جواب ہی نہیں دیا تھا۔اگر چہ یہ سب عیسائی اخبارات تھے لیکن ان سب نے بڑے زور سے اس مضمون کو شائع کیا۔اور اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔عیسائی مذہب کا عقیدہ جھوٹا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہی مسیح ہوں جو آخری زمانہ میں آنے والا تھا اور جس کا نبیوں کی کئی کتابوں میں وعدہ دیا گیا تھا۔اور ڈاکٹر ڈوئی اپنے رسول ہونے اور عیسائیوں کے تین خداؤں کے عقیدے میں بالکل جھوٹا ہے اور اگر وہ مجھ سے مباہلہ کرے تو وہ میری زندگی میں ہی بڑی تکلیف کے ساتھ جان دے گا۔اور اگر مباہلہ نہ بھی کرے تب بھی وہ عذاب سے بچ نہیں سکے گا لیکن ڈوئی اپنی دولت، شہرت اور طاقت کے نشہ میں تھا۔وہ مغرور اور متکبر تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیلنج کو بڑی حقارت کی نظروں سے دیکھا اور اپنے اخبار مورخہ 26 ستمبر 1903ء میں انگریزی میں چند سطر میں شائع کیں اور لکھا کہ :- ”ہندوستان میں (نعوذ باللہ ) ایک بے وقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دونگا اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو کچل کر مار ڈالوں گا“۔www۔alislam۔org