حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 9 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 9

14 13 ۱۸۹۷ء تھا یہ چھٹے گھنٹے میں قتل ہوا۔یہ دن مسلمانوں کی عید کا اگلا دن تھا۔اور آریوں کے لیے بھی یہ دن عید کا ہی دن تھا کیونکہ اس دن ایک مسلمان نے ہندو مذہب قبول کرنا تھا۔اب تم اصل واقعہ سنو کہ یہ کیسے ہوا ؟ لیکھرام کے پاس ایک شخص آیا۔اور کہا جناب میں مسلمان ہوں لیکن میرے باپ دادے ہندو تھے اور میں اب پھر سے ہندو بنا چاہتا ہوں یہ سن کر لیکھرام کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔اسے بڑے بڑے ہندؤوں کے پاس لے گیا اور انہیں بتایا کہ یہ ہمارا پہلا شکار ہے چنانچہ سات مارچ ۱۸۹۷ء کا دن مقرر ہوا کہ جب اسے ہندو بنایا جانا تھا۔اس لیے بڑی دھوم دھام سے اس کا انتظام کیا جا رہا تھا۔اور ہندؤوں کے لیے تو گویا یہ عید کا دن تھا۔4 مارچ کو ہفتہ کا دن تھا کہ لیکھرام جی نے قمیض اتاری ہوئی تھی اور اپنے کمرہ میں بیٹھے تھے۔پاس ہی وہ شخص کمبل اوڑھے بیٹھا تھا۔کہ لیکھرام نے انگڑائی لی۔اور اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اس شخص نے پورا خنجر لیکھرام کے پیٹ میں اتار دیا اور یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں باہر آ گئیں اور منہ سے ایسی آواز نکلی جیسے کہ بیل نکالتا ہے جسے سن کر اس کی بیوی اور ماں بھاگی ہوئی کمرہ میں آگئیں۔اب وہاں کیا رکھا تھا۔وہ شخص بھاگ چکا تھا۔یہ دیکھ کر وہ دروازہ تک دوڑی گئیں۔سنا جاتا ہے کہ وہ یہ کہتی تھیں کہ انہوں نے قاتل کو سیڑھیوں پر سے اترتے دیکھا ہے۔لیکن آگے پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا۔زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔کیونکہ وہ گلی ایک طرف سے بالکل بند تھی اور اس طرف سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا اور دوسری طرف جو کھلی تھی اس طرف کسی کی شادی تھی۔اور وہاں خوب کھانے وغیرہ پک رہے تھے اور لوگ بیٹھے تھے اور وہاں سے بھاگتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں تو اب بتاؤ وہ شخص گیا تو کہاں گیا ؟ ہندؤوں کا محلہ۔بھاگنے کو راستہ نہیں۔کسی ہندو کے مکان میں چھپنے کی جگہ نہیں تو پھر آخر وہ مسلمان جا کہاں سکتا تھا۔ہندؤوں نے بڑا شور مچایا اور لاہور میں مسلمان اداروں کی تلاشیاں ہوئیں۔یہاں تک کہ قادیان میں حضرت صاحب کے مکان تک کی تلاشی ہوئی۔انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس نے خود تلاشی لی۔حضرت صاحب نے اسے سب کا غذات دکھائے۔معاہدہ کا وہ کاغذ بھی دکھایا کہ جس میں دونوں فریقوں نے رضا مندی سے بچی پیشگوئی کو سچائی کا معیار ٹھہرایا تھا۔وہاں سے جانے کے بعد کپتان پولیس نے گورنمنٹ کو رپورٹ بھجوائی کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت اور سچائی نہیں اور کوئی سازش نہیں ہوئی اور سارا پراپیگنڈا بالکل غلط ہے ادھر لیکھرام کی سُنو۔اُسے فورا میوہسپتال پہنچایا گیا۔شام کا وقت ہو چکا تھا ایک انگریز ڈاکٹر نے اس کا آپریشن کر کے ٹانکے لگائے۔چونکہ اس کی حالت بہت نازک ہوچکی تھی اس لیے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان لینے سے بھی روک دیا۔صبح ہوتے ہی پنڈت لیکھرام جی اگلے جہان کو روانہ ہو گئے۔دیکھو اس دن جبکہ ہندؤوں کے لیے عید کا دن تھا۔ایک مسلمان نے ہندو بننا تھا وہی ان کے لیے ماتم کا دن بن گیا۔اسی دن لیکھرام کی لاش ڈاکٹروں نے چیری بھی اور پھاڑی بھی۔اسی دن پھر اس کا جنازہ اُٹھایا گیا اور اسی دن اُسے جلایا بھی گیا اور بے شمار ہندو مرگھٹ تک ساتھ گئے۔جہاں لیکھرام کا فوٹو لیا گیا اور اس کے بعد اُسے لکٹریوں کی ایک بہت بڑی چتا پر رکھ کر جلا دیا گیا اور پھر اس کی راکھ دریائے راوی میں بہادی گئی اور خدا کا الہام یوں پورا ہوا اور بڑی شان وشوکت کے ساتھ پورا ہوا۔www۔alislam۔org