حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 10 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 10

16 15 ☆ اس کے بعد ہم آپ کو ایک اور عظیم الشان پیشگوئی کا حال سُناتے ہیں۔یہ بات تو ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں کہ آنے والے زمانہ میں کسی بات کا یقینی طور پر بتا نا کسی بھی انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں ، کون جانتا ہے کہ کل کیا ہونا ہے اور 5 سال بعد کیا ہونا ہے دس (10) برس یا بیس (20) برس کے بعد کیا ہوگا لیکن اللہ اپنے پیارے بندوں کو ایسی باتیں بتا دیا کرتا ہے اور اسی کو پیشگوئی کہتے ہیں۔آپ نے پیچھے لیکھرام والی پیشگوئی پڑھ لی جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ چھ سال کے اندر اندر پوری ہوگی۔یہ قہر کا نشان تھا۔یہ ہندؤوں کے لیے بڑی بدقسمتی والی پیشگوئی تھی۔یہ ایک شریر اور شیطان کو سزا دینے والی پیشگوئی تھی۔اب تم رحمت کی پیشگوئی سنو۔برکت کا نشان دیکھو۔یہ بات بڑی عجیب ہے کہ یہ نشان بھی ہندؤوں نے ہی مانگا تھا جو انہیں دکھایا گیا جسے نہ صرف اُنھوں نے دیکھا بلکہ ساری دُنیا نے دیکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کچھ عرصہ علیحدہ طور پر اور بالکل تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے تھے۔اسے بچو چلہ کشی بھی کہتے ہیں۔اگر آپ پرانے بزرگوں کی زندگیوں کے حالات پڑھیں تو کئی اولیاء اللہ نے اس قسم کی عبادتیں کی ہیں اسی طرح حضرت صاحب بھی چاہتے تھے اور اس کے لیے آپ کا خیال تھا کہ سو جان پور جو قادیان سے کافی فاصلے پر تحصیل پٹھانکوٹ میں برلب نہر ایک پرانا اور غالباً تاریخی قصبہ ہے وہاں جائیں اور وہاں جا کر یہ چلہ کشی کریں حضرت صاحب کو تو چونکہ اسلام سے عشق تھا اس لیے اس دین کی سر بلندی کے لیے آپ نے ساری دنیا کو چیلنج کیا ہوا تھا کہ جو اس دین کی سچائی اور صداقت کے لیے کوئی نشان دیکھنا چاہتا ہے وہ آپ کے پاس قادیان آئے اور آپ کے پاس کچھ عرصہ ٹھہرے تو آپ اسے اس قسم کا نشان دکھانے کے لیے تیار ہیں۔اس اعلان کو قادیان کے ہندوؤں نے بھی سن رکھا تھا لیکھرام جس کا ذکر تم او پر پڑھ آئے ہو وہ بھی قادیان آچکا تھا اور کافی شور اور شرارتیں کر گیا تھا۔بس انہی سب باتوں کو دیکھ کر ان لوگوں کو خیال پیدا ہوا اور یہ لوگ ایک وفد بنا کر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضور نے ساری دنیا کو تو یہ چیلنج دے رکھا ہے کہ میرے پاس آکر اسلام کی صداقت کے لیے نشان دیکھو لیکن ہم لوگ تو آپ کے ہمسائے ہیں آپ کے گاؤں میں رہتے ہیں آپ کے پاس ہی ہیں ہم خود یہ نشان دیکھنا چاہتے ہیں ہمیں تو کہیں باہر سے آنا بھی نہیں پڑے گا تو آپ ہمیں نشان کیوں نہیں دکھاتے۔اس پر حضرت صاحب نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی، خدا سے اس کا جواب مانگا تو آپ کو بتایا گیا کہ تیری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی یعنی تیری مشکل کا حل ہوشیار پور میں بتایا جائے گا۔اس پر آپ نے ہوشیار پور جانے کا ارادہ کر لیا۔آپ نے اپنے دو نہایت مخلص دوستوں کو لکھا کہ وہ آپ کے ساتھ جانے کے لیے قادیان آجائیں۔ان میں ایک تو حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری تھے۔جنھیں شروع سے ہی حضرت صاحب سے بڑی محبت اور عقیدت تھی اور ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت حضور کے پاس گزاریں۔انہیں جب یہ پیغام ملا تو یہ بہت خوش ہوئے اور قادیان آگئے۔دوسرے دوست شیخ حامد علی صاحب تھے جو قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں فیض اللہ چک کے رہنے والے تھے یہ بھی آگئے۔ایک اور شخص بھی حضور کے ساتھ گیا جس کا نام فتح خان تھا۔حضرت صاحب کے ایک دوست ہوشیار پور میں رہتے تھے۔ان کا نام شیخ مہر علی تھا۔یہ ہوشیار پور کے ایک معزز رئیس تھے۔انہیں بھی حضرت صاحب سے بڑی محبت اور www۔alislam۔org