حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 25 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 25

46 45 ☆ اسی طرح ایک اور الہام کے بارہ میں حضور نے اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ حضور کے بیٹے مرزا بشیر احمد صاحب کی بچپن میں آنکھیں خراب ہو گئیں اور ہر وقت پانی بہتا رہتا تھا یہاں تک کہ پلکیں بھی گر گئیں ایک لمبے عرصہ تک دیسی علاج بھی کیا اور انگریزی بھی کیا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوتا تھا اور تکلیف ویسی کی ویسی ہی تھی۔جس کی وجہ سے حضور کو پریشانی بھی تھی کیونکہ آنکھوں کا معاملہ تھا اگر بڑھ جاتا تو آنکھیں ضائع ہونے کا خطرہ بھی تھا جس کی وجہ سے فکر تھا۔علاج سے بجائے فائدہ ہونے کے بیماری بڑھتی چلی جارہی تھی۔تو حضور نے اپنے بچے کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ : - بَرَّقَ طِفْلِی بَشِيرٌ ، یعنی میرے بچے بشیر کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔اس الہام کے ایک ہفتہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے بچے کو شفا دے دی اور آنکھیں بالکل تندرست ہو گئیں۔اسی کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کہتے ہیں وہ جب چاہتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اگر وہ چاہے تو علاج کے ذریعہ شفا بخشے اور اگر نہ چاہے تو اسی علاج کے ذریعہ صحت نہ دے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی کہ بشیر کو شفا ہو گئی تو ایک ہفتہ کے اندر آرام آگیا اور سب پریشانیاں اور فکر دور ہو گئے۔الحمد للہ رب العالمین۔یہ 1888 ء کا واقعہ ہے جو حضور نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضور کو پچاس روپے کی ضرورت پیش آئی اور اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت حضور کے پاس کچھ نہ تھا اور جب صبح کے وقت حضور سیر کے لیے تشریف لے گئے تو اس ضرورت کے خیال سے طبیعت میں جوش پیدا ہوا کہ اس ضرورت کے لیے دعا کریں۔پس حضور نے اس جنگل میں جا کر اس نہر کے کنارہ پر جو قادیان سے تین میل کے فاصلہ پر بہتی ہے دعا کی تو دعا کے بعد حضور کو عربی میں الہام ہوا جس کا ترجمہ ہے کہ : ”دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔تو حضور خوشی خوشی قادیان واپس آئے اور بازار کی طرف تشریف لے گئے تا کہ ڈاکخانہ جا کر معلوم کریں کہ کیا کوئی رقم آئی ہے یا نہیں۔چنانچہ وہاں حضور کو ایک خط ملا جس میں لکھا تھا کہ لدھیانہ سے کسی نے پچاس روپے بھجوائے ہیں۔اور پھر وہ روپیہ حضور کو اسی دن یا اگلے دن مل بھی گیا۔www۔alislam۔org