حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 26 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 26

48 47 ☆ اب دیکھو بیچو! یہ صرف چند پیشگوئیاں اور الہامات اور نشانات ہیں ورنہ اس قسم کے دس بیس یا سو دو سو نشان نہیں بلکہ ہزاروں نشانات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں ظاہر ہوئے جن کی اللہ تعالیٰ نے حضور کو قبل از وقت اطلاع دی اور جس کا حضور نے لوگوں میں اعلان کر دیا اور پھر بعینہ اسی طرح واقعہ بھی ہوا جس طرح حضور نے قبل از وقت اعلان فرمایا تھا۔اور یہ نشانات اور الہامات حضور نے بڑی تفصیل کے ساتھ اپنی کئی کتابوں میں درج فرمائے ہیں جن میں سے صرف دو کے نام ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ان میں سے ایک کا نام ہے ” نزول مسیح “ اور دوسری کا نام ”حقیقۃ الوحی“ ہے۔اور تمہیں بھی چاہئے کہ ان نشانات کو جو حضور کی ان کتابوں میں تفصیل سے درج ہیں دیکھو تا کہ آپ کے ایمان میں اور اخلاص میں اضافہ ہو۔بچو! یہ بات خوب یاد رکھو کہ بعض لوگ اندازے سے بھی کسی بات کے متعلق کہہ دیا کرتے ہیں اور وہ اسی طرح واقع بھی ہو جاتی ہے جیسے کوئی بادلوں کو آتے ہوئے دیکھ کر کہہ دے کہ آج بارش ہو گی اور بارش ہو بھی جائے تو یہ خدا کی طرف سے پیشگوئی نہیں ہوگی۔یہ تو دنیا کے حالات دیکھ کر اندازہ ہوگا جو بعض اوقات پورا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات نہیں ہوتا۔خدا کے پیارے بندے جب خدا تعالیٰ کی طرف سے خبر پاکر اعلان کرتے ہیں تو وہ یہ بات واضح طور پر اور کھول کر بتایا کرتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے خبر ہے۔یہ خدا کی طرف سے الہام ہے۔یہ خدا کی طرف سے نشان ہے اور پھر خدا اپنے قول کا سچا ہے اس کا کہنا کبھی غلط نہیں ہوتا اور اگر کوئی جھوٹ موٹ اپنی طرف سے اور اپنے دل سے ہی بنا کر یہ کہہ دے کہ خدا نے اسے یہ بات بتائی ہے حالانکہ اس نے بتائی نہ ہوتو پھر خدا کا غضب بھڑکتا ہے اور وہ اس کی سخت سزا دیتا ہے اس کا سارا سلسلہ تباہ وبرباد ہو جا تا ہے۔اس کا خاندان ذلیل وخوار ہو جاتا ہے اور طرح طرح کی مصیبتیں اور بلائیں اسے گھیر لیتی ہیں اور اس کی وجہ صرف یہی ہوتی ہے کہ اس نے خدا کے نام پر جھوٹ بولا۔لیکن دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو واقعی خدا تعالیٰ نے ہی یہ غیب کی خبریں دی تھیں اسی لیے وہ سب کی سب پوری ہوئیں۔لیکن ہمیشہ یاد رکھو کہ اس قسم کے نشانات کو سچی آنکھ سے دیکھنے کے لیے پاک روح کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ لوگ جو سعید روحیں رکھتے تھے، وہ سب حضور پر ایمان لے آئے۔حضور کی زندگی میں ہی یہ سلسلہ بڑھا، پچھلا اور پھولا۔حضور ایک چھوٹے سے دور دراز گاؤں میں پیدا ہوئے آپ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا اور نہ ہی آپ کی اپنی خواہش تھی کہ لوگوں میں شہرت پائیں لیکن خدا چاہتا تھا کہ آپ اسلام کی مدد اور حمایت کے لیے کھڑے ہوں اور اسی وجہ سے خدا نے آپ کی مددفرمائی۔اور آپ کو شہرت عطا کی۔آپ کے خاندان کو عزت و برکت عطا کی۔آپ کے اس ننھے سے گاؤں کو ترقیات عطا کیں اور دنیا کے دور دراز ملکوں میں اسے شہرت عطا کی۔اور ملکوں کے لوگ اب اسی گاؤں میں کھنچے چلے آتے ہیں۔آپ کو مال و دولت عطا کیا۔اولا د دی اور اولا د بھی ایسی جس نے دین کی خدمت میں ساری عمر قربان کر دی اور پھر ایسی جماعت عطا کی جو آپ پر ہزار جان سے قربان تھی۔وہ تنہا شخص جو قادیان کے گمنام سے گاؤں میں اکیلا کھڑا ہوا۔آج 117 سال میں دنیا کے کناروں پر اس کے ماننے والے اور اس کے درجات کو بلند کرنے کے لیے دعائیں کرنے والے موجود ہیں۔اس کی جماعت امریکہ میں موجود ہے یورپ میں بھی اس کے ماننے والے پائے جاتے ہیں۔افریقہ کے لوگ اور جزائر کے رہنے والے آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے موجود ہیں اور وہ وقت بھی تھا جب آپ کو ایک کتاب چھاپنے کے لیے چند سو روپوں کے مانگنے کی ضرورت www۔alislam۔org