حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں

by Other Authors

Page 11 of 27

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں — Page 11

18 17 عقیدت تھی۔حضور جب بھی ہوشیار پور تشریف لے جاتے تو انہی کے پاس ٹھہرتے۔اس لیے حضرت صاحب نے انہیں لکھا کہ میں چند دن کے لیے ہوشیار پور آنا چاہتا ہوں آپ میرے لیے شہر سے باہر کہیں ایسی جگہ مکان کا انتظام کر دیں جہاں لوگوں کا زیادہ آنا جانا نہ ہو۔کیونکہ یہ دن میں بالکل تنہائی میں خدا تعالیٰ کی عبادت میں گزارنا چاہتا ہوں۔شیخ مہر علی صاحب نے فوراً اس کا انتظام کر دیا۔ان کا اپنا ہی ایک مکان شہر کے باہر ہوا کرتا تھا۔یہ ایک حویلی سی تھی جو بے آباد تھی اور دو منزلہ تھی۔(یہ مکان اب جماعت احمدیہ کی تحویل میں ہے) جب یہ انتظام ہو گیا تو حضور 20 جنوری 1886ء کو قادیان سے ہوشیار پور کے لیے روانہ ہو گئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب قادیان میں ابھی ریل گاڑی نہیں آئی تھی لوگ عام طور پر یکوں اور پہلیوں میں سفر کرتے تھے۔بچو! جانتے ہو پہلی کیا ہوتی ہے۔یہ ایک گڈا ہوتا ہے جسے بیل کھینچتے ہیں لیکن اس میں مال اسباب رکھنے کی بجائے ایک بڑی سی پیڑھی رکھ دی جاتی ہے اور اس کے گرد چاروں طرف ڈنڈے لگا کر پردے لگا دیئے جاتے ہیں اور اس پیڑھی پر بیٹھ کر لوگ سفر کرتے ہیں اور حضرت صاحب بھی قادیان سے پہلی میں ہی روانہ ہوئے۔راستہ میں ایک دریا بھی آتا ہے اس دریا کا نام دریائے بیاس ہے۔جب ان چار آدمیوں کا قافلہ دریائے بیاس پر پہنچا تو دریا پار کرنے کے لیے کشتی پر سفر کرنا تھا۔لیکن کشتی دریا کے اندر کچھ دور تھی۔کنارے پر نہیں تھی۔وہ ملاح جو کشتی چلاتا تھا اس نے حضرت صاحب کو کندھے پر اٹھا کر کشتی میں بٹھایا۔خیر حضرت صاحب نے رات ایک گاؤں میں گزاری اور اگلے دن ہوشیار پور پہنچ گئے۔رات حویلی میں بالا خانہ پر گذاری۔بچو ! بالا خانہ مکان کی دوسری منزل کو کہتے ہیں۔اور آپ نے کام تقسیم کر دیئے۔حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کے سپر د تو کھانے پکانے کا کام ہو گیا۔حضرت شیخ حامد علی صاحب کے سپرد سودا وغیرہ لانے کا کام ہوا اور دوسرے چھوٹے موٹے کام فتح خان کے سپر د ہوئے۔اس کے بعد پھر حضرت صاحب نے اشتہار کے ذریعہ لوگوں میں اعلان کر دیا کہ میں چالیس دن اکیلے عبادت کرنا چاہتا ہوں۔اس لیے لوگ مجھے ملنے نہ آئیں اور نہ ہی کوئی دعوت وغیرہ کریں۔ان چالیس دنوں کے بعد میں ہیں دن اور ٹھہروں گا۔ان دنوں جس کا جی چاہے آکر سوال جواب کرے اور دعوت کرنے والے دعوت بھی کر لیں اور حضور نے یہ حکم دیا کہ مکان کے اندر کی کنڈی ہمیشہ لگی رہے اور حضور کو کوئی نہ بلائے اور اگر حضور کوئی بات پوچھیں تو صرف اس بات کا اتنا ہی جواب دیا جائے جتنا ضروری ہو۔اوپر بھی کوئی نہ آئے میرا کھانا اوپر پہنچا دیا جائے اور میرے کھانے کا انتظار نہ کیا جائے۔میں جب چاہوں گا کھا لوں گا۔اور خالی برتن پھر کسی وقت آکر لے جایا کریں یہاں تک کہ جمعہ پڑھانے کے لیے شہر سے باہر ایک باغ میں ویران سی مسجد تلاش کر لی جہاں یہ چاروں چلے جاتے اور حضرت صاحب خود خطبہ پڑھتے اور نماز پڑھا دیتے۔حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب سنوری نے لکھا ہے کہ حضور نے مجھے ایک مرتبہ فرمایا کہ: ”میاں عبداللہ ! ان دنوں مجھ پر خدا تعالیٰ کے فضل کے بڑے بڑے دروازے کھلے ہیں بعض اوقات دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے اگر ان کو لکھا جاوے تو کئی ورق ہو جاویں“۔اس چلہ سے متعلق اور بھی بعض واقعات ہیں جو ہم چھوڑتے ہوئے آگے چلتے ہیں کیونکہ اس طرح بات لمبی ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور کو ایک عظیم الشان خبر دی اور یہ وہ پیشگوئی ہے جسے اب ہم تمہیں بتانا چاہتے ہیں۔حضور نے اپنے قلم سے 20 فروری 1886ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جو امرتسر کے ایک اخبار ” ریاض ہند میں یکم مارچ 1886ء کے پرچہ میں شائع ہوا آپ اسے پڑھیں اور بار بار پڑھیں۔اس کے الفاظ، اس کے فقرے کس قدرشان وشوکت والے ہیں اس میں دین اسلام کی ترقی کی پیشگوئی ہے۔اپنے ایک عظیم الشان بیٹے کی پیدائش کی پیشگوئی ہے۔پھر www۔alislam۔org