مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 673 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 673

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 673 نبی کی اجتہادی رائے میں غلط فہمی کا امکان صحیح بخاری شریف (جلد دوم) عکس حوالہ نمبر : 234 106 54 - كِتَابُ الشُّرُوطِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍ ويَرْسُفُ فِي عُيُودِهِ، وَقَدْ خَرَجَ مِن ہیں، لہذا قربانی کے جانور اس کے سامنے سے گزارد، أَسْفَلِ مَكَةٌ حَتَّى رَبِّي بِنَفْسِهِ بَيْنَ اظهرِ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور جب لوگوں کو اس نے لبیک کہتے المُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ: هَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَا ہوئے سنا تو کہا سبحان اللہ ایسے لوگوں کو بیت الحرام سے أَقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَن تَرُدَّهُ إِلَى فَقَالَ الله صلى الله روکنا مناسب نہیں ہے، پھر ان میں سے ایک شخص مکرز عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِقَالَمْ نَقضِ الكِتَابَ بَعْدُ ، قَالَ : بن حفص نامی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ مجھے بھی ان کے فَوَاللهِ إِذًا لَمْ أَصَالِحكَ عَلَى شَنِي آبَدًا، قَالَ النَّبِي پاس جانے کی اجازت دیجیے، لوگوں نے کہا، جائیے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَجِزُه لی، قَالَ: ما انا جب وہ نزدیک پہنچا تو نبی کریم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے، مجِيزِهِ لَكَ، قَالَ: بَلَى فَافَعَلَ ، قَالَ : مَا آنا جو بد کار آدمی ہے پھر وہ نبی کریم سے بات کرنے لگا تو بِفَاعِلِ قَالَ مِكْرَز : بَل قد اجزناه لك قال أبو اس دوران سہیل بن عمر آ گیا۔معمر فرماتے ہیں کہ مجھے جَنْدَلٍ: الى مَعْشَرَ المُسلِمِينَ، اُردُّ إلى ایوب نے عکرمہ کے واسطہ سے خبر دی کہ جب سہیل بن المُشْرِكِينَ وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، ألا ترون ما قد عمرو آیا تو آپ نے فرمایا کہ اب تمہارا کام آسان ہو گیا، لقِيتُ وَكَانَ قَد عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا في الله معمر فرماتے ہیں کہ زہری نے اپنی روایت میں کہا ہے قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنِ الخَطَابِ : فَأَتَيْتُ نبی الله کہ جب سہیل بن عمرو آیا تو اس نے کہا کہ ہمارے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: الست نبی اللہ اپنے درمیان ایک معاہد ہ لکھ لو، پس نبی کریم نے ایک حقا، قَالَ: بَل ، قلت : الشنا على الحق وعدونا كا تب کو طلب فرمایا اور اسے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کا عَلَى البَاطِلِ قَالَ: بَلَى ، قُلْتُ: فَلِمَ نُعطی النيَّة حکم دیا۔سہیل نے کہا، خدا کی قسیم نہیں نہیں معلوم کہ في دِينِنَا إِذَا؟ قَالَ: إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَسْتُ رحمن کون ہے؟ آپ باسمك اللهم لکھیں جیسے آر أَوَلَيْسَ أعْصِيهِ، وَهُوَ تَأصِيری ، قُلْتُ: اولیس گنت پہلے لکھا کرتے تھے، صحابہ کرام علیھم الرضوا لکھنے لگے تحدثنا الاسناني البيت فَنَطُوفُ بِهِ قَال: بلی کہ خدا کی قسم، ہم بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے مگر فأخبرتك انا تأتيه العام ، قال : قلت: لا، قال: نبی کریم نے فرمایا باسمك اللهم ہی لکھ دو، پھر آپ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُقَولُ بِهِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ آبَا بَكْرٍ نے فرمایا: یہ وہ فیصلہ ہے جو محمد رسول اللہ یعنی ہم نے فقلت: يا أبا بكر اليْسَ هَذا نبي الله حَقًّا قَالَ: کیا۔سہیل نے کہا: خدا کی قسم اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول بَلَ قُلْتُ : السَّنَا عَلَى الحَق وَعَدُونَا عَلَى البَاطِلِ جانتے تو بیت الحرام سے کیوں روکتے اور آپ کے قَالَ: بَلَى قُلْتُ: فَلِمَ يُعْطَى الدنيَّةَ فِي دِينِنَا إِذَا؟ ساتھ جنگ و قتال کیوں کرتے ، پس اس جگہ محمد بن قَالَ: أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبداللہ لکھئے، اس پر نبی کریم نے فرمایا : خدا کی قسم میں وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ ضرور اللہ کا رسول ہوں، اگر چہ تم مجھے جھٹلاتے ہو محمد بن فَاسْتَمْسِك بِعَزيدِ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الحَق قُلْتُ: عبداللہ لکھ دو۔زمری کا قول ہے کہ یہ باتیں آپ آليْسَ كَانَ يُحيثُنَا أَنَّا سَنَانِي البَيْتَ وَلكلوف نے اس لیے منظور فرما ئیں کہ آپ پہلے ہی فرما چکے تھے