مسیح اور مہدیؑ — Page 674
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 674 نہی کی اجتہادی رائے میں غلط نہی کا امکان صحیح بخاری شریف (جلد دوم) عکس حوالہ نمبر : 234 108 54 - كِتَاب الشروط إِنَّهُ لَجَيْدٌ لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جربت، فقال ابو گزری ہے اور راہ خدا میں مجھے کیسی کیسی مصیبتیں اور بَصِيرٍ أرلي انظُرُ إِلَيْهِ، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَطَرَبَهُ حَتَّى رنج و آلام پہنچے ہیں؟ پس حضرت عمر بن خطاب نے برَدَ وَفَرَّ الآخَرُ حَتَّى أَتَى المَدِينَةَ ، فَدَ حل المسجد بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ! کیا يَعْدُو فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم آپ برحق نبی نہیں ہیں؟ فرمایا کیوں نہیں، عرض کی ، کیا حِينَ رَآهُ: لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْدًا فَلَمَّا انقضى إلى ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ فرمایا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُتِلَ وَاللہ کیوں نہیں عرض کی ، پھر ہمیں اپنے دینی معاملات میں صَاحِي وَإِنِّي لَمَقْتُول لجاء ابو بصیر فَقَالَ : پانینی مغلوب ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا میں اللہ کا لَجَاءَ بَصِيرٍ اللَّهِ قَد وَاللَّهِ أَوْلَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَد رَدَدْتَنِي المُهم، رسول ہوں، اس کے حکم زرا رو گردانی نہیں کرتا اور وہ ثُمَّ الْجَانِي اللهُ مِنْهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میرا مزدگا رہے۔انہوں نے عرض کی، کیا آپ نے ہم وَسَلَّمَ : وَيْلُ أُمَّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ، لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم جلد بیت اللہ شریف جائیں فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَردُهُ إِلَهُمُ فَخَرَج گے اور اس کا طواف کریں گے؟ فرمایا ہاں کیوں نہیں حَتَّى أَتَى سِيفَ البَحْرِ قَالَ: وَيَنْقَلتُ مِنْهُمْ أبو لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال جائیں گے؟ جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ تجعل لا انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو نہیں فرمایا تھا۔فرمایا پھر تم يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لحق بأبي خانہ کعبہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے، وہ فرماتے بَصِيرٍ، حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ فَوَالله ما ہیں کہ اس کے بعد میں نے صدیق اکبر کی خدمت میں يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا حاضر ہو کر عرض کی ، اے ابو بکر ! کیا یہ اللہ کے بچے نبی اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمُ نہیں؟ فرمایا کیوں نہیں، میں نے کہا پھر ہمیں اپنے دینی فَأَرْسَلَتْ قُرَيْش إلى النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معاملات میں مغلوب ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا تُناشِدَهُ بِالله وَالرَّحيم، لَمَّا أَرْسَل فَمَنِ آتَاهُ فَهُوَ اے اللہ کے بندے وہ اللہ کے رسول ہیں اور اپنے آمِنْ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمُ رب کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ ان کا مددگار ہے پس فَأَنزَلَ اللهُ تَعَالَى: (وَهُوَ الَّذِي كَفَ أَيْدِيَهُمْ ان کی اطاعت پر پختگی سے قائم رہو، کیونکہ خدا کی قسم دو عَنْكُمْ وَايْدِيكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ ان حق پر ہیں ، میں نے عرض کی، کیا انہوں نے ہم سے یہ أظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ) (الفتح: (24) حَتَّى بَلَعَ الحمية نہیں فرمایا تھا کہ ہم جلد بیت الحرام جائیں گے اور اس وَكَانَتْ حية الجاهلية) (الفتح: 26) وكانت حيَّهُمْ کا طواف کریں گے ؟ فرمایا کیوں نہیں مگر یہ تو نہیں فرمایا أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ لَى اللَّهِ وَلَمْ يُقِرُّوا بِسم تھا کہ اسی سال جائیں گے، میں نے عرض کیا ہاں یہ تو الله الرحمنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ نہیں فرمایا تھا، صدیق اکبر نے فرمایا کہ یقین رکھو تم مَعَرَّةُ البَيْتِ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الله: " معرة العُرُ : الحرب ضرور جاؤ گے اور طواف کرو گے، زہری کا قول ہے کہ تَزَيَّنُوا : تميّزُوا وَحَميتُ القَوْمَ : مَنَعْمُهُم حماية حضرت عمر فاروق نے فرمایا مجھے اس عمل کے کفارے