مسیح اور مہدیؑ — Page 49
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 49 صحابہ رسول کا پہلا اجماع اور وفات عیسی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آکر منافقوں کے ناک اور کان کاٹیں گے ( جو ایک غلط خیال تھا چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پر سے چادر اٹھائی، پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا کہ آپ زندہ ہونے اور وفات یافتہ ہونے کی حالت میں پاک ہیں۔خدا تعالیٰ ہر گز آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا ماسوائے پہلی موت کے (جو ہو چکی )۔اس قول سے بھی حضرت ابو بکر کا یہی مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں واپس نہیں آئیں گے، پھر حضرت ابو بکڑ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسجد نبوی میں جمع کیا اور منبر پر چڑھ کر یہ آیت پڑھی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَائِنُ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ ( آل عمران : 145) ایعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف نبی ہیں اور پہلے اس سے سب نبی فوت ہو چکے ہیں پس کیا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو جائیں یا قتل کئے جائیں تو تم لوگ دین چھوڑ دو گے۔نصر الباری شرح بخاری جلد ہفتم صفحہ 673-674 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) کسی دینی مسئلہ پر رسول اللہ کی وفات کے بعد امت محمدیہ میں صحابہ کرام کا یہ پہلا اجماع تھا جس سے ثابت ہوا کہ چونکہ آپ سے پہلے بلا استثناء تمام نبی فوت ہو چکے ہیں جن میں حضرت عیسی بھی لامحالہ 14 شامل ہیں۔حضرت محمد بھی خدا کے ایک رسول تھے وہ بھی دیگر انبیاء کی طرح وفات پاگئے۔حضرت مسیح کے قائلین کا یہ کہنا کہ خلت کے معنوں میں زندہ آسمان پر جانا بھی داخل ہے یہ سراسر ہٹ دھرمی ہے کیونکہ عرب کی تمام لغت دیکھنے سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ زندہ آسمان پر جانے کے لئے بھی حلت کا لفظ آ سکتا ہے۔مزید برآں اسی آیت کے اگلے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے خَلَتْ کے معنی خود بیان فرما دئے ہیں اور فرمایا:۔الفَائِنُ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ یعنی خَلَتْ کے معنے دو صورتوں میں محدود ہیں۔ایک یہ کہ طبعی موت مرنا دوسرے قتل کئے جانا اگر اس کے علاوہ کوئی تیسرے معنے بھی ہوتے تو الفاظ یوں ہوتے اَفَائِنُ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ اَوْ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ مَعَ جَسَدِهِ الْعُنْصَرِيَ یعنی اگر یہ مرجائے یا قتل کیا جائے یا مع جسم آسمان پر اٹھا دیا جائے۔ورنہ یہ تو قرآنی فصاحت و بلاغت کے برخلاف ہے کہ جس قدر معنوں پر خلت کا لفظ بقول مخالفین مشتمل تھا ان میں سے صرف دو معنے لئے اور تیسرے کا ذکر تک نہ کیا اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے حضرت ابو بکر کا اس خطبہ سے اصل مطلب یہی تھا کہ دوسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں نہیں آئیں گے جیسا کہ