مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 590 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 590

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 590 چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا اور مرتبہ پایا کہ اب آپ کی اطاعت کے بغیر کسی کو یہ مقام قیامت تک نصیب نہیں ہو سکتا۔ہاں کامل اطاعت کے نتیجہ میں صرف آپ کے امتی ہی یہ روحانی انعام پاسکتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے: وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ انْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ ، وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقاً ، (النساء: 71) کہ جو لوگ بھی اللہ اور اس کے اس رسول محمد ﷺ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے۔یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔° دوسرے اس حدیث میں ”بعدی" کا لفظ بھی وضاحت طلب ہے کیونکہ اس لفظ میں زمانی بعد کے علاوہ ” خلاف“ کے معنی بھی ہوتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے لیے بھی قرآن شریف میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔اور اللہ تعالیٰ تو ازلی ابدی ہے اس کا ”بعد نہیں ہو سکتا پس فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَايَتِهِ يُؤْمِنُونَ 0 ( جاشیہ: 7 ) کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کو چھوڑ کر (یا ان کے خلاف ) یہ کس (کافر) بات پر ایمان لائیں گے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں سونے کے کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے تو اس کی یه تعبیر فرمائی کہ دو کذاب ”میرے بعد نکلیں گے اور وہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ہیں۔(تیسیر الباری جلد 4 صفحہ 284 نعمانی کتب خانہ لاہور ) 210 یہ دونوں کذاب آنحضور کے زمانہ میں موجود تھے۔مسیلمہ نے آپ کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ شروع کر دیا تھا۔جیسا کہ اس نے رسول اللہ کے نام اپنے ایک خط میں نبوت میں شریک کرنے کا مطالبہ کیا۔اور دوسرا مدعی نبوت اسود نامی تو آپ کی زندگی میں ہی مارا بھی گیا۔211 ( تاریخ طبری جلد دوم حصہ اول صفحه 368 متر جم سید محمد ابراہیم نفیس اکیڈمی کراچی ) پس یہاں بعد سے ان کذابوں کا مخالفانہ خروج مراد ہے۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی لکھا ہے کہ حضور کی زندگی میں مسیلمہ کذاب نے واضح طور پر تشریعی نبوت کا دعویٰ کیا۔شراب اور زنا کو حلال قرار دیا فریضہ نماز کو ساقط کر دیا اور قرآن مجید کے مقابل پرسورتیں نج الکرامہ صفحہ 234 مطبع شاہجہانی بھوپال ) 212 بنائیں۔پس لَا نَبِيَّ بَعْدِی کے یہی معنی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل اور برخلاف کوئی نئی یا پرانی شریعت والا نبی نہیں آسکتا صرف امتی اور تابع نبی آسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ طبرانی میں