مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 589 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 589

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 589 چھوٹے مدعیان نبوت کی پیشگوئی کا پورا ہونا پوری ہو جاتی ہے اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے۔اكمال الاكمال الجزء التاسع صفحه 258 دار الكتب العلمية بيروت ) 207 اس حدیث میں خاتم النبیین کا لفظ بھی تشریح طلب ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ سورۂ احزاب کی آیت خاتم النبین ( نمبر 41) میں لفظ خاتم تاء کی زبر سے ہے جس کے معنے مہر کے ہیں۔تاء کی زیر سے خاتم (اسم فاعل ) نہیں کہ اس کے معنی ختم کرنے والا کئے جاسکیں۔انہی معنی کی وضاحت کی خاطر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بچوں کے استاد، قاری ابوعبدالرحمن السلمی کو بطور خاص یہ ہدایت فرمائی کہ حضرت حسن و حسین کو خاتم تاء کی زبر سے پڑھانا۔208/ تفسیر در منشور اردو جلد پنجم صفحه 578 ضیاء القرآن پبلی کیشنز (1) اس کی حکمت یہ تھی کہ خاتم کے معنی مہر کے ہیں جو تصدیق کے لیے لگائی جاتی ہے اور ” نبیوں کی مہر سے مراد آنحضرت کا تمام انبیاء کے مصدق ہونے کا مقام ہے۔آپ ہی وہ منفرد نبی ہیں جنہوں نے گزشتہ تمام انبیاء کی تصدیق فرمائی اور ان سب پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی۔(البقرة: 286) خاتم النبیین کے یہی وہ معنے ہیں جس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عائشہ صحابہ سے فرمایا کرتی تھیں کہ: 66 قُولُوا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ۔( تفسیر در منثور مترجم جلد پنجم صفحه 578 ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ملاحظہ ہو حوالہ نمبر 208) کہ تم یہ تو کہو کہ حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔خاتم کے انہی معنی کی وضاحت اس حدیث سے بھی خوب ہوتی ہے جو رسول اللہ نے فرمایا کہ: أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ خَاتَمُ الْأَوْلِيَاءِ۔“ مناقب آل ابی طالب الجزء الثالث صفحہ 303 دار الاضواء بیروت ) 209/ میں خاتم الانبیاء ہوں اور اے علی ! تو خاتم الاولیاء ہے۔اہلسنت وشیعہ میں سے کوئی بھی حضرت علی خاتم الاولیاء کو ایسا آخری ولی قرار نہیں دیتا۔جن کے بعد امت میں کوئی ولی ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ اس حدیث کی رُو سے حضرت علی کو ولایت کے اس آخری مقام پر فائز سمجھا جاتا ہے جن کی پیروی سے ولایت ملتی ہے۔یہی معنی خاتم الانبیاء کے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا وہ آخری مقام