مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 569 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 569

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 569 حديث لا نبيَّ بَعْدِي كا مطلب 31 - حديث لا نَبِيَّ بَعْدِى كا مطلب مطلب 199 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَتْ بَنُوَاسُرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِى وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالاَوَّلِ أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُم۔( صحیح بخاری اردو جلد دوم صفحه 252 مترجم علامہ وحید الزمان حذیفہ اکیڈمی لاہور ) ترجمہ: حضرت ابو ہریرۃ" سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں اصلاح احوال کے لئے نبی آتے رہے۔جب بھی کوئی نبی فوت ہوتا تو کوئی نبی ہی اس کا جانشین ہوتا تھا۔اور میرے (معا) بعد نبی نہیں ہوگا بلکہ خلفاء ہوں گے اور وہ زیادہ ہوں گے۔صحابہ نے عرض کیا آپ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ فرمایا جس (خلیفہ) کی پہلے بیعت کر چکے ہو وہ عہد بیعت نبھاؤ اور ان (خلفاء) کے حق (اطاعت ) ادا کرو۔اللہ تعالیٰ خودان سے ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بارہ میں پوچھے گا۔تشریح : امام بخاری اور مسلم نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا۔ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے سلسلۂ خلافت کا امت محمدیہ سے مشابہت کے باوجود یہ فرق بھی بیان فرمایا ہے کہ وہاں انبیاء کے جانشین بھی نبی ہوتے تھے۔مگر میرے معا بعد خلافت راشدہ کا نظام قائم ہو گا وہ خلیفے نبی نہیں کہلائیں گے تا خاتم النبیین ﷺ کی عظمت اور شرعی نبوت کا امتیاز قائم رہے۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ اگر میرے معا بعد نبی کا خطاب کسی کے لئے جائز ہوتا تو اپنی دماغی و روحانی استعدادوں کے لحاظ سے حضرت عمر اس لائق تھے مگر وہ بھی خلیفہ تو کہلائے ، نبی کا نام نہیں پایا۔تاہم ہزار سالہ لمبے انقطاع کے بعد مسلمانوں کی گمراہی کے وقت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ایک امتی نبی کے آنے کی بشارت دی اور چار مرتبہ