مسیح اور مہدیؑ — Page 440
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 440 مسیح و مہدی کو رسول اللہ کا سلام 25 مسیح و مہدی کو رسول اللہ کا سلام عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِثُهُ مِنِّي السَّلَامَ۔(مستدرک حاکم جلد 6 صفحہ 724 شبیر برادرز لاہور ) 152 ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو عیسی بن مریم کو پائے وہ اسے میر اسلام پہنچائے۔تشریح امام حاکم نے یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح قرار دی ہے۔شیعہ مسلک میں تو امام مہدی کو سلام پہنچانے کا یہ طریق بھی بیان ہے۔حضرت امام باقر فرماتے ہیں کہ: ” جب تمہاری ملاقات ہمارے امام قائم (مہدی) سے ہو تو ان الفاظ میں ان کو سلام کرنا السلام علیکم ! اے اہل بیت نبوت اور علم کی کان اور رسالت کے مقام۔( بحار الانوار جلد 12 صفحہ 336 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) 153 اس حدیث سے آخری زمانے میں آنے والے مثیل مسیح و مہدی کے مقام اور اسے قبول کرنے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے جس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے کہ لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِیسَی کہ عیسی ابن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں۔ابن ماجہ کتاب الفتن باب شدة الزمان ) اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس محبوب مہدی کو محبت بھرا سلام بھجوا کر اپنی امت کو یہ پیغام دیا کہ وہ آنیوالا میرا پیارا مسیح اور مہدی ہے اس کی قدر کرنا۔ہاں ! وہی مہدی جس کی سچائی کے نشان کے طور پر چاند سورج گرہن کے آسمانی گواہوں کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ نے ہمارے مہدی“ کے الفاظ میں اپنی محبت اور پیار کا اظہار فرمایا۔ایک اور موقع پر رسول اللہ نے فرمایا: إِنَّ عَيْسَى ابْن مَرْيَمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيِّ۔۔۔۔الَا خَلِيفَتِي فِي امتی۔۔۔کہ یقینا عیسی بن مریم کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔۔۔سنو میری امت میں میرا خلیفہ ہو گا تو اسے میر اسلام دینا۔(اعجم الصغیر صفحہ 501-502 شبیر برادرز لاہور ) 154