مسیح اور مہدیؑ — Page 439
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں مرقاة شرح مشكوة أ م جلد دهم 439 عکس حوالہ نمبر : 151 كتاب الفتن امام مہدگی پر ایمان واجب C قُرَيْضٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَضْرَةَ أَوْ قَالَ إِجَابَتُهُ۔الخرجه أبو داود في المسند ٤٧٧/٤ حديث رقم ٤٢٩٠ - (رواه أبو داود) ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ مالیم نے ارشاد فرمایا: "ما وراء النہر کے کسی شہر میں ایک شخص ظاہر ہوگا جس کو حارث ترار کے نام دیا جائے گا دستے سے لشکر کے اگلے حصہ پر ایک شخص ہوگا جس کا نام منصور ہو گا وہ حارث آل محمد لی ایم کو جگہ یا ٹھکانہ دے گا جیسا کہ اللہ کے رسول مینی کو قریش کے لوگوں نے ٹھکا نہ دیا تھا (پس) ہر مسلمان پر واجب ہوگا کہ اس شخص کی موافقت و نصرت کرے یا یہ فرمایا کہ ( ہر مسلمان پر واجب ہوگا کہ ) اس شخص کی اطاعت کرے۔( ابوداؤد ) تشريح : قوله: يخرج رجل من وراء النهر۔۔۔۔۔۔يقال له منصور : حراث براء کی تشدید کے ساتھ مفت ہے، بمعنی زراع (کھیتی کرنے والا۔) على مقدمته: مضاف محذ" ہے " على مقدمة جیشہ ہے، (اس کے لشکر کے اگلے حصہ پر۔) منصور : اس شخص کا نام ہوگا، یا صفت ہوگی۔بعض کا کہنا ہے، کہ منصور سے مرادا بومنصور ماتریدی ہیں ایک مشہور جلیل القدر امام ہیں اور عقائد میں حنفیہ کے اصول کا مدار ان ہی پر ہے لیکن اس حدیث کو اس باب میں ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم۔مزید یہ کہ اس باب کا عنوان " اشراط الساعة“ ہے، اور قیامت کی علامات امام مہدی کے نزول کے علاوہ دوسری علامات کو بھی شامل ہیں۔خواجہ عبید اللہ سمرقندی نقشبندی فرماتے ہیں کہ منصور ہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔لیکن اس جیسی بات یا تو کسی نعلی دلیل سے کہی جاسکتی ہے، یا کشف کی بنیاد پر کہی گئی ہے۔قوله: يوطن أو يمكن۔۔۔۔۔۔الرسول الله : يوطن : توطين“ کا اصل معنی ہے "کسی کو کوئی ٹھکانہ یا مکان دینا" او يمكن : ” او “ ، راوی کی طرف سے شک کیلئے ہے اور اسی سے یہ ارشاد باری تعالی ہے: الدین ان مكناهم في الارض ) [الحج : ٤١] : " اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دے دیں تو کیا یہ۔"او" واؤ کے معنی میں ہے، یعنی وہ شخص حمل الم کی آل کو مال، خزانوں اور ہتھیار کی صورت میں اسباب مہیا کرے گا۔اور اپنے لشکر کے ذریعے حکومت و خلافت کو قومی مضبوط اور مستحکم بنائے گا۔لال محمد آل محمد سے عمومی طور پر حضور علیہ السلام کی تمام ذریت مراد ہے، اور خصوصی طور پر امام مہدی مراد ہیں۔یا طور لفظ " آل زائد ہے، یعنی محمد مہدی مراد ہے۔كما مكنت قريش یہ ہے ای کتمکین قریش (قریش کے ٹھکا نہ دینے کی طرح)