مسیح اور مہدیؑ — Page 351
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 351 دجال کی قوت و شوکت اور خر دقبال کی حقیقت 21۔دجال کی قوت و شوکت اور شر دجال کی حقیقت عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ۔۔۔مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِي إِلَّا أَنذَرَ أُمَّتَه ، أَنْذَرَهُ نُوحٌ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ فِيكُمْ فَمَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَانِهِ فَلَيْسَ يَخْفى عَلَيْكُم۔۔إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَ إِنَّهُ أَعْوَرُعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ۔( صحیح بخاری اردو جلد 2 صفحہ 523 حذیفہ اکیڈمی لاہور ) 121 ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا کہ ہر نبی نے ہی اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا۔نوح علیہ السلام اور ان کے بعد نبیوں نے اس سے ڈرایا اور وہ (دجال) تمہارے اندر ضرور ظاہر ہوگا۔اور اس کی جو حالت و کیفیت اب تم پر مخفی ہے وہ اس وقت مخفی نہیں رہے گی۔۔۔تمہارا رب یک چشم نہیں ہے اور وہ ( دجال ) دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ کا ڈیلا ا بھرا ہوا ہے۔تشریح دجال کے بارہ میں روایات بخاری کے علاوہ صحیح مسلم، ابوداؤد، مسند احمد اور مستدرک حاکم میں بھی موجود ہیں۔بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ دجال اپنے ساتھ جنت اور آگ کی مثل یعنی ان سے ملتی جلتی چیز لے کر آئے گا لیکن جسے وہ جنت کہے گا دراصل وہ آگ ہوگی۔الله نصر الباری جلد ہفتم صفحہ 26 4 مکتبہ اشیخ بہادر آباد کراچی ) صلى الله 122 حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ دجال کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے مجھ سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا اور حضور اکرم ﷺ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ اس سے تمھیں کیا ضرر پہنچے گا؟ میں نے عرض کیا (یا رسول اللہ اس سے خوف ہے اس لئے کہ ) لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔(نصر الباری جلد دواز دہم صفحہ 438 مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی) 123 حضرت انس کی روایت میں ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک۔ف۔“ لکھا ہوگا۔( نصر الباری جلد دوازدہم صفحہ 442 مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) 124