مسیح اور مہدیؑ — Page 352
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 352 دجال کی قوت و شوکت اور خروجال کی حقیقت دراصل ان احادیث صحیحہ میں دجال کی وہ علامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں جن کے نظارے مختلف مکاشفات میں آپ کو کروائے گئے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ایک دفعہ سورج گرہن کے موقع پر جب آپ نے صلوۃ کسوف پڑھائی تو اس کے بعد خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جسے میں نے نہیں دیکھا۔مگر اس جگہ نماز میں کھڑے ہوئے میں نے اسے دیکھ لیا ہے یہاں تک کہ جنت و جہنم کو بھی دیکھا اور مجھے وحی کی گئی کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے، دجال کی آزمائش کی طرح یا فر مایا دجال کے فتنہ کے قریب یا برا بر۔( بخاری کتاب الكسوف باب نساء مع الرجال في الكسوف) در اصل دجال سے مراد مغربی عیسائی اقوام اور خصوصاً ان کے پادری ہیں جن کے نمائندہ کے طور پر ایک شخص آپ کو دکھایا گیا۔مذکورہ بالا حدیث میں دائیں آنکھ سے کانا ہونے میں دجال کے باطنی حلیہ یا دینی کمزوری اور عیب کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ دیگر روایات میں ہے کہ اس کی دائیں آنکھ کانی ، انگور کی طرح موٹی ابھری ہوئی اور بائیں آنکھ ستارہ کی طرح روشن ہوگی۔المصنف لا بن ابی شیبه جلد 21 صفحه 194 دار قرطبة بيروت) فقط اس سے مراد دراصل دین کی آنکھ سے محرومی اور دنیا کی آنکھ کا تیز ہونا ہے۔گویا وہ مذہب اور روحانیت سے بے بہرہ ہوگا جب کہ اس کی دنیاوی عقل بہت تیز ہوگی۔دجال کے مذہبی تشخص اور مشرکانہ عقائد کی طرف اشارہ اس مثال سے ظاہر ہے جو نبی کریم نے اسے خزاعہ قبیلہ کے ایک مشرک عبد العزی بن قطن سے مشابہ دیکھا اور دجال کی پیشانی پرک۔ف۔یعنی کفر کے الفاظ سے مراد دجال کے کفریہ عقائد اور اعمال ہیں جو اس کے کفر پر کھلی دلیل ہوں گے۔حضرت تمیم داری کی مشہور حدیث میں ذکر ہے کہ انہوں نے ایک مغربی جزیرے میں دجال کو ایک 126/ گر جا میں مقید دیکھا۔( صحیح مسلم اردو جلد ششم صفحہ 459-460 نعمانی کتب خانہ لاہور ) اس سے بھی ظاہر ہے کہ مغربی عیسائی اقوام اور ان کے پادری ہی دجال ہیں جن کا تعلق جزیرہ نما انگلستان سے ہو یا ویٹیکن روم کے گرجے سے۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قوم کے ایک نمائندہ فرد کے طور پر دکھائے گئے اور جن کے بارہ میں احادیث میں بیان فرمودہ تمام نشانیاں پوری ہو چکی ہیں مثلاً یہ کہ وہ زمین میں اس بارش کی تیزی سے چلے گا جسے پیچھے سے ہوا دھکیل رہی ہو۔اور ہر طرف فتنہ و فساد برپا کرے گا۔اور اس کے حکم پر بارش برسے گی اور زمین کھیتی اگائے گی اور اپنے خزانے نکال باہر