مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 341 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 341

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 341 ثریا کی بلندی سے ایمان واپس لانے والا مسیح و مہدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری آمد یا بعثت کا زمانہ وہ ہو گا جب ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا اور اسلام پر عمل باقی نہ رہے گا۔2 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دوسری بعثت ایک ایسے شخص کے رنگ میں ہوگی جو عربی نہیں مجھی ہوگا اور سلمان فارسی کی قوم سے ہوگا وہی سلمان فارسی جن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے۔(مستدرک حاکم اردو جلد 5 صفحہ 417 شبیر برادرز لا ہور ) 119 -3 رسول اللہ کی اس دوسری بعثت کی غرض اور مقصد ایمان کا قیام، اسلام کا احیاء نو اور غلبہ دین حق ہے۔4- دیگر احادیث میں اسلام کی حالت زار کے وقت اس کے احیاء نو کے لئے آنے والے مسیحا کو مثیل ابن مریم اور مہدی کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔سورۃ جمعہ میں اسی مسیح اور مہدی کی بعثت کا ذکر ہے جس کی آمد نبی کریم کی کامل محبت اور اتباع کے باعث حضور ہی کی آمد قرار دی گئی ہے۔آنحضور کے ارشاد کی تعمیل میں اس پر ایمان لا کر قبول کرنا گویا خود محمد مصطفی پر ایمان لانے کے مترادف ہے۔عجیب تر بات یہ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعویٰ سوائے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے امت میں سے کسی نے نہیں کیا۔بعض لوگ از خود حضرت امام ابو حنیفہ یا امام بخاری و امام مسلم کو اس حدیث کا مصداق قرار دے دیتے ہیں۔مگر اول تو خودان بزرگان کا دعوی نہ ہونا مدعی ست گواہ چست والی بات ہے۔دوسری ان بزرگوں کا زمانہ دوسری اور تیسری صدی ہے جن کو نبی کریم نے خیر القرون یعنی بہترین زمانہ قرار دیا۔جب کہ رجل فارس کی آمد ایمان اٹھ جانے کے بعد خراب زمانہ میں بیان فرمائی گئی ہے۔اس لئے پہلی صدی ہجری میں فارسی قوم کے قبول اسلام پر یہ حدیث چسپاں نہیں ہوسکتی۔اس کے بالمقابل یہ علامت جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کھل کر پوری ہو چکی ہے اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت بانی سلسلہ جماعت احمدیہ کے شدید مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی نے بھی حضرت بانی جماعت احمدیہ کے فارسی الاصل ہونے کی گواہی دی ہے۔اشاعۃ السنہ از مولوی محمد حسین بٹالوی بابت جون جولائی اگست 1884ء صفحہ 193 ) 120