مسیح اور مہدیؑ — Page 250
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 250 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ 10 - قریش مکہ شہید کلمہ گو مسلمان شہداء کی نعشوں کی توہین کرنے سے بھی باز نہ آئے۔جنگ بدر میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناک کان کاٹ کر ان کی نعشوں کا مثلہ کر کے ان کی بے حرمتی کی گئی۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة بدر ) کتنا پُر خطر مگر پر استقامت تھا ہمارے نبی ﷺ اور صحابہ کا راستہ کہ جس پر چلنا آج بھی ناجی فرقہ کی سچائی کا نشان اور طرہ امتیاز بن گیا۔مگر اس کے بالمقابل اس راستہ پر چلنے سے روکنے والے کفار قریش کا انسانیت سوز کردار بھی کتنا شرمناک اور بھیانک تھا۔جس کا سلسلہ آج بھی احمدیوں کی قبروں کے کتبے توڑنے اور ان کے گڑے مردے اکھیڑنے کی صورت میں جاری ہے۔یہ ہر دو واضح کردار آج بھی تقویٰ اور انصاف کی آنکھ سے بآسانی پہچانے جا سکتے ہیں کہ آج مسلمانوں کے موجود تمام فرقوں میں کونسی کلمہ گو جماعت کس ڈگر پر چل رہی ہے۔کون ظالم ہے اور کون مظلوم؟ اگر 7 ستمبر 1974ء تک کلمہ گواحمدیوں کے خلاف آئینی ترمیم سے پہلے ناجی فرقہ کی پہچان میں کوئی ابہام تھا بھی تو اس کے بعد یہ معاملہ روشن ہو چکا ہے، کیونکہ اسلام کے دعویدار تمام فرقوں نے مل کر بھٹو حکومت کی سر پرستی میں کلمہ گواحمدی مسلمانوں کو قریش دارالندوہ کی طرح اپنی اسمبلی میں عین 7 ستمبر کی ہی تاریخ کو قانونی طور پر ناٹ مسلم قرار دے کر رہی سہی مشابہت بھی پوری کر دی۔اور یوں سب فرقوں نے اپنے عمل سے ناجی فرقہ کو اپنے سے ممتاز اور جدا کر دیا۔اب رسول اللہ کی بیان فرمودہ ان علامات کی روشنی میں ناجی فرقہ کی تلاش ایک تقومی شعار مسلمان کا فرض ہے کہ مذکورہ بالا چند موٹی موٹی نشانیاں جماعت احمدیہ کے علاوہ آج کس فرقہ میں پوری ہوتی ہیں۔کیا کسی فرقہ میں حضرت بانی جماعت احمدیہ کی طرح مامور من اللہ مسیح ومہدی کا دعویدار واجب الا طاعت امام یا اس کا خلیفہ موجود ہے؟ تاکہ رسول اللہ ﷺ کی نصیحت کے مطابق ایک متلاشی حق ایسے کلمہ گو مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام سے وابستہ ہو جائے۔کیا آج دنیا کے نقشہ پر جماعت احمدیہ کے علاوہ کوئی اور ایسی جماعت ہے جس میں نظام خلافت کے تابع صحابہ جیسی اطاعت ، وحدت کے ساتھ اعلیٰ اخلاق و کردار کے نمونے موجود ہوں؟ نہیں کوئی بھی تو نہیں۔بلکہ ان ڈیڑھ اینٹ کی مساجد بنانے والے نام نہاد علماء کے درمیان صرف ایک امام جماعت احمدیہ ہیں جن کی آواز پر ان کی بیعت کرنے والے اپنا تن من دھن سب قربان کرنے کے لئے تیار ہیں، وہ ان کے