مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 249 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 249

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 249 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ سے بھی منع کرتے۔اور کہتے کہ جب وہ تلاوت قرآن کریں تو شور مچادیا کرو۔اس طرح تم غالب آ سکتے ہو (سورة حم السجدہ : 27) حضرت ابوبکر صبح نماز میں بآواز بلند قرآن پڑھتے تو کفار اس بہانہ سے منع کرتے کہ ہماری عورتوں بچوں پر اثر ہو جاتا ہے۔بالآخر تلاوت کرنے کے اصرار پر حضرت ابوبکر کو شہر مکہ چھوڑ دینے کی سزاسنائی گئی۔( بخاری کتاب الکفالۃ باب جوار ابی بکر فی عہد النبی) 7۔تیرہ سال تک مسلمان قریش مکہ کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہے۔رسول اللہ ﷺ 14 ویں سال کے دوسرے مہینے صفر کے آخر تک مکہ میں مقیم رہے۔دلائل النبوة ليبقى جزء 2 صفحہ 465) 24 صفر بمطابق 7 ستمبر 622ء کو پہلے پہر سردارانِ قریش نے بقول علامہ صفی الرحمن مبارکپوری مکہ کی پارلیمان دارالندوہ میں رسول کریم ﷺ کے خلاف قید یا قتل کرنے یا مکہ سے نکال دینے کی قرار داد بالا اتفاق منظور کی۔(الرحیق المختوم اردوترجمہ صفحہ 227) تو اسی شب باذن الٰہی آپ حضرت ابو بکر کے ساتھ گھر سے نکل کر جانب جنوب مکہ سے تین میل پر غار ثور میں پناہ گزیں ہوگئے۔چوتھے روز 28 صفر بمطابق 11 ستمبر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔مگر یہاں بھی دشمن نے تعاقب کیا۔علامہ مبارکپوری نے بحوالہ رحمتہ للعالمین مصنفہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری 27 صفر کو رسول اللہ ﷺ کے بغرض ہجرت مدینہ نکلنے کا ذکر کیا ہے ( جو دراصل غار ثور سے نکلنے کی تاریخ ہے۔) (التوفيقات الالہامیہ صفحہ 33) 90 8۔مدینہ کے کلمہ گومسلمانوں کے فریضہ حج پر بھی پابندی تھی۔قریش مکہ نے ہجرت نبوی کے بعد فتح مکہ ہونے تک آٹھ 8 سال کا عرصہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو بیت اللہ میں آکر عبادت کرنے سے روکا اور انہیں حج کرنے کی اجازت نہ دی۔بخاری کتاب المغازى باب ذكر النبي من يقتل ببدر وغزوة الحديبيه) 9۔مدینہ کے کلمہ گو مسلمانوں کی مالی قربانیوں پر بھی کفار مکہ کو سخت اعتراض تھا۔رسول کریم علم اور آپ کے صحابہ عمر بھر اپنے اموال بطور زکوۃ وصدقات اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرتے رہے۔(سورۃ الصف : 12) جبکہ کفار ہمیشہ ان پر حملہ آور ہو کر ان کی محنت کی کمائی کو اپنے لئے حلال جان کر ان کے اموال لوٹنے کے درپے رہے۔(سورۃ التوبه : 13)