مسیح اور مہدیؑ — Page 246
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 246 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ صرف ایک سند سے مروی ہے چونکہ قرآن شریف اور صحیح بخاری سے بھی اس حدیث کی تائید ہوتی ہے نیز عملی طور پر خود واقعات زمانہ نے بھی اس حدیث کو سچا ثابت کر دیا ہے اس لئے یہ حجت ہے۔حدیث میں مذکور مسلمانوں کے تہتر 73 فرقے بعض علماء نے تو نام بنام شمار کر کے بھی دکھائے ہیں۔(مرقاۃ المفاتیح اردو جلد اول صفحہ 767) لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ چودہ سال میں بنے والے مسلمان فرقوں کا شمار اس سے بھی کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔لہذا یہاں ستر 70 کا عدد محاورہ عرب کے مطابق کثرت کے لئے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ خود قرآن کریم نے کثرت کے لئے ستر کا عدد استعمال کیا ہے۔(التوبة: 80) حدیث کے الفاظ كُلُّهُمْ فِي النَّار کے جو معنے اہل سنت نے کیے وہ عکس ترجمہ صفحہ 253 سے ظاہر ہیں کہ سوائے ایک مذہب یا فرقہ کے باقی سب دوزخی ہیں۔ہمارے نزدیک یہ معنے سورۃ البقرۃ کی آیت 81 اور 112 کی روشنی میں درست نہیں ہو سکتے کیونکہ کسی کے جہنمی یا جنتی ہونے کا علم صرف خدائے عالم الغیب کو ہے لہذا کسی کے دوزخی ہونے کا بلا دلیل فتویٰ قابل قبول نہیں۔سب فرقوں کے فِی النَّارِ یعنی آگ میں ہونے سے مراد قرآنی محاورہ کے مطابق لڑائی اور نفرت و مخالفت کی آگ بھڑ کا نا بھی ہو سکتا ہے (سورہ المائدہ: 65) یعنی سارے فرقے مل کر ایک ناجی فرقہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جائیں گے۔دوسرے یہاں حسد کی آگ بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حسد انسان کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔(ابوداؤد کتاب الادب باب في الحسد ) مزید برآں كُلُّهُمْ فِی النَّار جملہ اسمیہ ہے جس میں استمرار پایا جاتا ہے۔اس لئے حال و استقبال دونوں کا مفہوم موجود ہوتا ہے یعنی وہ سب فرقے زمانہ حال میں بھی آگ میں ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔اس جملہ کا یہ حالیہ مفہوم صرف مخالفت و نفرت اور حسد کی آگ پر ہی چسپاں ہو سکتا ہے۔ضرورت یہ جائزہ لینے کی ہے کہ آخر فی زمانہ وہ کونسی جماعت ہے جس کے خلاف سارے مسلمان مخالفت اور نفرت کی آگ بھڑکانے میں متحد ہیں، بلاشبہ وہی مذہب یا جماعت ناجی ہوگی۔میدا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں 1974 ء میں احمدیوں کو ناٹ مسلم قرار دینے کے بعد سے لے کر آج تک تمام مسلمان فرقے تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر جماعت احمدیہ کے خلاف نہ صرف مخالفت کی آگ بھڑ کانے میں متحد ہیں بلکہ احمدیوں کے مکانوں، دکانوں، مساجد کو ظاہری آگ