مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 247 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 247

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 247 مسلمانوں کی فرقہ بندی اور ناجی فرقہ لگانے بلکہ لوٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور اس طرح عملاً خود یہ پیشگوئی پورا کرنے کا موجب ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف جماعت احمد یہ عالمگیر کی مسلسل ترقیات دیکھ کر بھی مخالفین حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور اس دنیا میں اس آگ میں جلنے کی یہ گواہی جہنم کی آگ کے لئے ایک قرینہ تو قرار دی جاسکتی ہے مگر قطعی حتمی دلیل نہیں۔اس لئے دیگر کلمہ گوفرقوں کو جہنمی بنانے سے گریز ہی امن کا راستہ ہوگا۔یہ ذکر ہو چکا ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ بندی والی اس حدیث کی تائید قرآن شریف سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ، إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إلَى اللهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (الانعام: 160 ) یعنی یقیناً وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ ہو گئے، تیرا ان سے کچھ بھی تعلق نہیں ان کا معاملہ خدا ہی کے ہاتھ میں ہے پھر وہ اُن کو اُس کی خبر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ ایک وقت آئے گا جب رسول اللہ علیہ کے راستہ پر چلنے والے گروہ یہ راستہ چھوڑ دیں گے۔تب حضرت حذیفہ بن الیمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جاہلیت کے شتر اور خرابیوں کے بعد اسلام کی خیر ہمیں نصیب ہوئی۔کیا اب اس خیر کے بعد پھر کوئی شتر آنیوالا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں اس میں دھواں اور دھندلاہٹ ہوگی۔عرض کیا کیسا دھواں؟ فرمایا ایک ایسی قوم ہوگی جو میرا طریق چھوڑ کر دوسرے راستہ پر چلے گی۔پھر اس کے بعد آنیوالاشتر جہنم کی دعوت دینے والے لوگ ہیں جو ان کی بات مانے گا اسے اس میں ڈال دیں گے۔حضرت حذیفہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا: - تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ یعنی تم مسلمانوں کی اس جماعت میں شامل ہونا جن کا ایک امام ہو۔عرض کیا اگر کوئی جماعت یا امام نہ ہو؟ رسول کریم ﷺ نے صلى الله فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے کنارہ کشی کرنا خواہ درخت کی جڑیں بھی چبانی پڑیں یہاں تک کہ تجھے موت آجائے اور تو اسی حالت میں ہو۔( بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة في الاسلام ) تہتر فرقوں والی حدیث مذکور میں بھی رسول کریم نے فرقہ ناجیہ کی نشانی مَا أَنَا عَلَيهِ وَأَصْحَابِی میں فرما دیا کہ اس سے مراد میرا اور میرے صحابہ کا مذ ہب یا راستہ ہے۔یعنی رسول اللہ اور آپ کے صحابہ نے جس طرح قرآنی تعلیم اور ارکان اسلام پر عمل کر دکھایا ہی نمونہ اس ناجی فرقہ کا بھی ہوگا۔رسول اللہ کی سنت واسوہ اور صحابہ کا طرز عمل کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ تاریخ کا ایسا روشن