مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 223 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 223

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 223 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی اس ارشاد نبوی سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تیسری صدی کے بعد مسلمانوں کی گمراہی اور فیج اعوج کا وہ ہزار سالہ دور شروع ہو جانا تھا جس میں انہوں نے زوال پذیر ہو کر بالآخر انتہائی نازک حالت میں چلے جانا تھا۔مذکورہ بالا حدیث میں اسی تاریک دور کے حالات کی طرف اشارہ ہے جس میں مسلمانوں کی دنیوی قیادت اور اقتدار پر بھی بد دیانت اور نا اہل لوگوں کا قبضہ ہو جانا تھا۔ان کی عملی حالت بگڑ جانی تھی اور مال کی فراوانی سے زنا، شراب اور قتل کے جرائم عام ہو جانے تھے۔( نصر الباری جلد اول صفحہ 418 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی ) اس صورتحال میں مسلمانوں کی دینی و مذہبی قیادت بھی ختم ہو جانی تھی۔نیج اعوج کے زمانہ کے یہی لوگ ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا: ” اُن کا مجھ سے اور میرا اُن سے کوئی تعلق جس کے بارے میں رسو نہیں۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد ششم صفحه 346 مترجم مولانا محمد ظفر مكتبة رحمانية (لاهور 78 اسی زمانہ کی علامات بیان کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ” قریب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن بطور رسم رہ جائے گا۔ان کی مساجد آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔انہی میں سے فتنوں کا آغاز ہوگا۔“ (شعب الايمان للبيهقى الجزء الثاني صفحه 311 دار الكتب العلمية (لاهور شیعہ مسلک میں بھی یہ حدیث مسلّم ہے۔( بحارالانوار مترجم جلد 12 صفحہ 76 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) 79 80 یہ حدیث جس میں امت کی گمراہی کا ذکر ہے دراصل قرآن شریف کی اس آیت کی تفسیر ہے کہ 0 وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمُ اكْثَرُ الْأَوَّلِينَ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِيْهِمْ مُنْذِرِينَ۔(الصافات: 72-73) اور یقیناً ان سے قبل پہلی قوموں میں سے بھی اکثر گمراہ ہو چکے تھے جبکہ یقیناً ہم ان میں ڈرانے والے بھیج چکے تھے۔یعنی الہی سنت کے مطابق اکثریت کی گمراہی کے بعد ہی ان میں خدا کا مامور ہوشیار کرنے کے لئے آتا ہے۔حدیث زیر نظر میں اسلام کی حالت زار کے بارہ میں جو نشانیاں بیان کی گئی تھیں وہ تیرھویں