مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 222 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 222

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 222 عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی 14۔عالم اسلام کا زوال اور ظہور مہدی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِرَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ عَالِمٌ اِتَّخَذَ النَّاسُ رُءُ وَسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوُا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا أَوْ أَضَلُّوا۔(صحیح بخاری اردو جلد اول صفحه 272 مترجم مولانا محمد آزاد، مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند ) 75 ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے علم چھین کر اچانک اسے قبضہ میں نہیں لے گا بلکہ عالم با عمل لوگوں کی موت سے علم کو اٹھا لے گا۔حتی کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے۔پھر ان سے سوال کیے جائیں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے اور وہ گمراہ ہوں گے یا فرمایا وہ دوسروں کو گمراہ کریں گے۔تشریح یہ حدیث صحاح ستہ کے تمام مؤلفین نے روایت کی اور امام بخاری اور مسلم نے اس کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔عمدة القاری جلد 2 صفحه 196 دار الكتب العلمية بيروت لبنان) اس حدیث میں دینی اور مذہبی قوموں کے زوال کا ایک اہم سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے علم و عمل کی حفاظت نہ کرنے کے نتیجے میں بتدریج پستی کا شکار ہو جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پہلی صدی کو بہترین صدی فرمایا ، پھر اس کے بعد کی دو صدیوں کو بھی خیر القرون ( نسبتا کم بہتر صدیاں) قرار دیا اور فرمایا کہ اس کے بعد جھوٹ کی خرابی پھیلنا شروع ہو جائے گی۔( صحیح بخاری اردو جلد چهارم صفحه 133 مترجم مولانامحمد آزاد، مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند ) 76