مسیح اور مہدیؑ — Page 105
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 105 عکس حوالہ نمبر: 31 قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ کا مطلب تذار من ناتها النير او ان تُطِيعُوا فَرِيقًا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم اطاعت کرو گے من الذين أوتوا نكتب ایک فرقہ کی اُن میں سے جن کو کتاب گئی ہے يرة وكر بعد ايمانكم پیرینگے تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد کافر رین و وكيف تكفرون وانتم بناکر ہے اور کیونکر تم کا فر ہو گے اور تم ہی ہو کر پڑھے کافر تلے عَلَيْكُم انت الله وفيكم نتائی جاتی میں تم کو بند کی نشانیاں اور تم میں اس کا رَسُولُهُ وَمَن يَعْتصم بالله رسول ہے اور جو کوئی اللہ کو مضبوط پکڑے تو میشک فَقَدْ هُدى عن صراط مستقيم اُس کو سیدھا رستہ بتایا گیا 0 تین آدمی اُس کے ملاقاتی تھے ، اُس نے بادشاہ سے اُن کی سفارش کی اور وہ صلیب پر سے اُتارے گئے اور اُن کا معالجہ کیا گیا ، مگر اُن میں سے دو آدمی مر گئے اور ایک شخص اچھا ہو گیا۔حضرت مہینے تین چار گھنٹہ کے بعد صلیت سر اتار لئے گئے تھے اور ہر طرح پر یقین ہوتے ہے کہ وہ زندہ تھے ، رات کو وہ محمد میں سے نکال لئے گئے اور وہ مختفی اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے ، حواریوں نے اُن کو دیکھا اور ملے اور پھر کسی وقت اپنی موت سے مرگئے کیا یہ ان کو یہودیوں کی تعدادت کے خوف سے نہایت مخفی طور پر کسی نامعلوم مقام میں دفن کر دیا ہو گا جواب نیک نا معلوم ہے ، اور یہ شہور کیا ہو گا کہ وہ آسمان پر پہلے گئے حضرت سونے کی وفات کے وقت بھی نہایت شبہ تھا کہ بنی اسر نہیں جو پہاڑوں اور جنگلوں میں پھرتے پھرتے اور دشمنوں سے لڑتے لڑتے حضرت موشے کے ہاتھ سے نہایت سنگ ہو گئے تھے حضرت مونٹے کی لاش کے ساتھ کیا کرینگے اس لئے اُن کو کیسی ایک پہاڑ کی کھو میں ایسے نا معلو م م میں دفن کیا تھا کہ آج تک کسی کو اُس کا پتہ معلوم نہیں ہوا۔چنانچہ توریت کی پانچویں کتاب میں لکھا ہے کہ ، اپس میں سے بندہ خداوند در اینجا برمیوں کو آب موافق تقول خداوند و قات کرد و او را در در ها زمین سو آپ میرا بر بیت یجور دفن کرد و ایسی کسی از مقبره او تا به امروز واقف نیست حضرت علی مرتضے کا جنازو بھی خوارج کے خوف سے اسی طرح مخفی طور پر وقت کیا گیا تھا حالانکہ خوارج کا خوف پنسبت ہو دیوں کے بہت کم تھا ، اور اسی طرح بعض فرق شیعہ نے حضرت علی مہر تھنے کی نسبت بھی کہا تھا کہ وہ آسمان پر چلے گئے۔اب عمر کو قرآن مجید پر غور کرنا چاہئے کہ اُس میں کیا لکھا ہے۔قرآن مجید میں حضرت ہم جینے کی دعات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے ؟ بول تو سورہ آل عمران میں اور وہ یہی آیت ہے جس کی ہم تفسیر لکھتے ہیں کہ وہ جیب اذقال الله یا عیسی انی متونيك ورائعك الله نے لینے سے کہا کہ بے شک میں تجھ کو الى اليق ات نابت ۴۰: + *