مسیح اور مہدیؑ — Page 106
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں سوره آل وره الم آل عمر این سد 106 عکس حوالہ نمبر : 31 کی قرآن و حدیث میں رفع الی اللہ کا مطلب تفسیر القرآن ولتكن منكمامة تَدْعُور اتے اور تم میں ایک گردہ ہوتا چاہئے کہ بلا سے (لوگوں کو) الخير ر يأمرون بالمعرون نیکی کی طرف اور اور اچھے کام کرنے کو کے وينهون عن المنكر وأوليك اورب کا ستوں سے منع کرے اور وہی لوگ ہیں فلاح هُمُ المُفْلِحُونَ وَلا تَكونوا پانے والے اور اُن لوگوں کی مانند مست ہو الدين تفرقُوا وَاخْتَلَفُوا جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا بعد اس کے مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ هُمُ الٹ کر ان کے پانی شانیاں آئیں اور وہی لوگ ہیں کہ اُن وأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابُ عَظِم کے لئے بڑا عذاب ہے ن وقولهم انا قتلنا المیت کی یہ قوان نقل کیا ہے کہ ،، یہودی کہتے تھے ہم نے پہلے بن اب و بیم رسول الله وما قتلوه مریم رسول خدا کو قتل کر ڈالا حال محکم نہ نسوانی اُن کو قتل کیا ہو وما حليوة ولكن شبه العدوان ته صلیب پر مارا و لیکن اُن پر صلیب پر یار ڈالنے کی ) پر الذين اختلفواقيه بني شك منہ شہید کر دی گئی اور جو لوگ کہ اس میں اختلاف کرتے ہیں مالهم به من علم الا انتباح للفن البتہ وہ اس بات میں شک میں پڑے ہیں اُن کو اُس کا وما قتلوه يقتابل در قعر اللہ الیہ یقین نہیں ہے بکر گمان کی پیروی کے انہوں نے رسور و نام آیت ١٥) ات کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے اپنے پاس اُن کو اُٹھا لیا ہے پہلی تین تائیوں سے حضرت مہینے کا اپنی موت سے وفات پاتا علانیہ ظاہر ہے مگر جو کہ علما نے اسلام نے یہ تقلید بعض فرق نصارے کے قبل اس کے گر مطلب قرآن مجید پر غور کریں تسلیم کر لیا تھا کہ حضرت عیسے زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں ، اس لئے انہوں نے اللہ آیتوں کے بعض الفاظ کو اپنی غیر محقق تسلیم کے مطابق کرنے کو بیچا کوشش کی ہے ہے پہلی آیت میں صاف لفظ " متوفيك کا واقع ہے جس کے معنی عموما ایسے مقام پر موت کے لئے جاتے ہیں ، خود قرآن مجید سے اس کی تفسیر پائی جاتی ہے جھائی مانے فرمایا ہے ، الله يتوفى النفس حين موتھا ، ابن عباس اور محمد ابن اسحق نے بھی جیسے کہ تفسیر کیہ میں لکھا ہے " متوفيك " کے عنی ، مميتك " کے لئے ہیں + یہی حال لفظ " توفیقتی " کا ہے جو دوسری آیت میں ہے اور جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جب تو نے مجھ کو موت دی یعنی جب میں مر گیا اور اُن میں نہیں رہا تو تو ان کا نسان تھا ہے پہلی آیت میں اور چوتی آیت میں لفظ " رفع کا بھی آیا ہے جس سے حضر کیسے