مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 65 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 65

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 65 رسول اللہ کے اہل زمانہ کی سو سالہ قیامت 5 رسول اللہ کے اہل زمانہ کی سو سالہ قیامت عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ذلِكَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهُرٍ اَوْنَحْوِ ذَلِكَ : مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَّهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ - 18 ( صحیح مسلم اردو جلد سوم صفحه 407 متر جم محمد محی الدین جہانگیر شبیر برادرز لا ہور ) ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل یا اس کے قریب یہ فرمایا کہ آج کوئی بھی ذی روح ایسا نہیں جس پر آئندہ سو سال گزریں اور وہ پھر بھی زندہ رہے۔تشریح : اسی مضمون کی روایت صحیح بخاری میں بھی موجود ہے کہ سوسال بعد روئے زمین پر کوئی ذی روح باقی نہ رہے گا۔دراصل یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بڑی قیامت یعنی روز حشر کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے مگر میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک قیامت تو سو سال بعد ظاہر ہوگی۔( بخاری کتاب العلم ) علماء سلف نے اسے وسطی قیامت کا نام دیا ہے۔حدیث نبوی میں ایک انفرادی قیامت کا بھی ذکر ہے۔رسول اللہ نے فرمایا : ”جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی۔“ مسلم کتاب الفتن باب اشراط الساعة ) پس ہر شخص کی موت بھی ایک فردی قیامت ہوتی ہے۔مذکورہ بالا حدیث میں قوم یا قرن ( کی ایک صدی) کی قیامت کا ذکر ہے۔جس کے مطابق سو سال گزرنے کے بعد روئے زمین پر بالعموم گزشتہ نسل کے سو سال سے زیادہ افراد اپنی طبعی عمر گزار کر رخصت ہو جاتے ہیں ، یہی ان نسلوں کی قیامت کہلاتی ہے۔بخاری کی روایت میں لفظ الارض یعنی زمین سے اہل ارض یا زمینی مخلوقات مراد ہے اور حضرت