مسیح اور مہدیؑ — Page 66
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 66 رسول اللہ کے اہل زمانہ کی سو سالہ قیامت مسیح عیسی علیہ السلام آسمان سے نہیں بلکہ زمین کی مخلوقات میں داخل ہیں۔پس اگر بفرض محال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے وقت حضرت عیسی زندہ بھی تھے تو اس حدیث کے مطابق سو سال بعد یقیناً وفات پاگئے۔( ملخص از ازالہ اوہام صفحہ 624 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 437 ایڈیشن 2008) اس لئے ان پر طوعاً یا کرھا إِنَّا لِللہ پڑھنا ہی پڑے گا۔اکا بر علمائے امت نے اسی حدیث سے حضرت خضر کی وفات کا بھی استدلال کیا ہے کہ اگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زندہ تھے تو وہ بھی اس حدیث کی رو سے وفات پاچکے ہیں۔مظاہرالحق شرح مشکوۃ المصابیح اردو جلد پنجم صفحہ 95 مکتبة العلم اردو بازار لاہور ) 19 قائلین حیات مسیح حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح حضرت خضر کو بھی اس حدیث سے بغیر کسی دلیل کے مستقلی قرار دیتے ہیں، مگر جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ بات بیان فرمائی کہ آپ کے زمانہ میں موجود لوگوں میں سے کوئی ذی روح سو سال بعد باقی نہ رہے گا ایسی قطعی پیشگوئی وحی الہی کے بغیر ناممکن ہے اور ایسی مخصوص سمیہ تاکید میں کسی تاویل یا استثناء کی گنجائش بھی محال ہے۔ورنہ قسم کھانے کی کیا ضرورت تھی۔پس اس حدیث کی موجودگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوسال بعد کسی بھی سابقہ نبی کے زندہ موجود رہنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔( ملخص از حمامة البشری صفحہ 14 حاشیہ روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 192 ایڈیشن 2008) لہذا دیگر انبیاء کی طرح حضرت عیسی کی طبعی موت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔بفرض محال اگر وہ زندہ تھے تو عہد نبوی کی اس قیامت سے بچ نہیں سکتے۔اور بہر حال وفات پاگئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔