مسیح اور مہدیؑ — Page 632
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 632 امت محمدیہ میں سلسلہ وحی والہام اور اس جنت ( کے ملنے ) سے خوش ہو جاؤ جس کا تم وعدہ دیئے جاتے ہو۔یہ بشارات الہیہ کبھی رویا و کشوف کے ذریعہ ہوتی ہیں اور کبھی وحی والہام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ، إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (الشوری :52) اور کسی انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی پیغام رساں بھیجے جو اُس کے اذن سے جو وہ چاہے وحی کرے یقیناً وہ بہت بلندشان ( اور ) حکمت والا ہے۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ رسالت و نبوت منقطع ہو گئی پس میرے بعد کوئی رسول یا نبی نہیں تو صحابہ کو رسالت و نبوت کے منقطع ہونے کی خبر سے وحی والہام کا سلسلہ بند ہو جانے کی تشویش ہوئی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ صرف تشریعی سلسلہ نبوت بند ہوا ہے۔مبشرات ( یعنی رؤیا ، کشوف اور الہام وغیرہ) کا سلسلہ جاری ہے جو نبوت کا ہی ایک حصہ ہے۔( ترمذی ابواب الرؤیا۔حوالہ 222) یہی وجہ ہے کہ خدا کے نبیوں کو بنیادی طور پر مبشر اور بشیر کہا گیا جن کو حسب حالات وضرورت انذار بھی کرنا پڑتا ہے۔پس اس حدیث کا وہی مطلب ہے جو دوسری روایت سے بھی ظاہر ہے کہ نبوت میں سے اب صرف مبشرات والی نبوت باقی ہے گو یا شریعت والی ہوت ختم ہو گئی۔اب کوئی نبی یا رسول قرآن کے علاوہ کوئی دوسری شریعت لے کر نہیں آئے گا مگر تبشیر وانذار کا سلسلہ جاری رہے گا۔حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کا دعوی بھی محض امتنی نبی ہونے کا ہے تشریعی نبوت کا نہیں۔حضرت علامہ ابن عربی اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ وہ نبوت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے منقطع ہوئی وہ تشریعی نبوت ہے اور میرے بعد کوئی رسول نہیں“ سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد ایسا کوئی نبی نہیں جو میری شریعت کے مخالف ہو بلکہ جب بھی ہوگا میری شریعت کے ماتحت ہوگا۔" الفتوحات المكية المجلد الثاني صفحه 3 دار صادر (بیروت 223 اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُولَ سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ جو نبوت و رسالت منقطع ہو گئی ہے وہ آنحضرت کے نزدیک نئی شریعت والی نبوت ہے۔(قرة العينين فى تفضيل الشيخين صفحه 319 المكتبة السلفية لاهور 224