مسیح اور مہدیؑ — Page 633
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 633 امت محمدیہ میں سلسلہ وحی والہ علمائے امت علامہ توربشتی (متوفی : 661ھ ) علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ ) علامہ عبدالوہاب شعرانی (متوفی: 973ھ) اور علامہ سندھی (متوفی : 1363ھ) نے بھی اس مضمون کی احادیث کے یہی معنی کئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شریعت والا نبی نہیں آئے گا اور تابع شریعت محمد یہ امتی نبی کے آنے میں حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی روک نہیں۔مذکورہ بالا حدیث کی تشریح کرتے ہوئے خود حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نبوت میں سوائے مبشرات کے کچھ باقی نہیں رہا یعنی انواع نبوت میں سے صرف ایک نوع مبشرات کی باقی ہے جو رویائے صادقہ ، مکاشفات صحیحہ اور اس وجی سے تعلق رکھتی ہے جو خاص اولیاء پر نازل ہوتی ہے۔۔۔ایک صاحب بصیرت ناقد کے لئے غور کا مقام ہے کہ کیا اس حدیث سے نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند سمجھا جا سکتا ہے بلکہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ نبوت تامہ جو وحی شریعت ساتھ رکھتی تھی منقطع ہو گئی لیکن وہ نبوت جس میں صرف ”مبشرات ہیں وہ قیامت تک باقی ہے اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔“ نیز فرمایا: توضیح مرام صفحه 19 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 60-61 ایڈیشن 2008) ”ہمارا ایمان ہے کہ تشریعی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی۔اب اسی شریعت کی خدمت بذریعہ الہامات، مکالمات، مخاطبات اور بذریعہ پیشگوئیوں کے کرنے کا ہما را دعوئی ہے۔“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 468) جب مسلمان علماء الہام و معجزہ سے انکار کر رہے تھے حضرت بانی جماعت احمدیہ نے فرمایا: ابتدائے وقت میں جب میں مامور کیا گیا تو مجھے الہام ہوا کہ۔۔۔یا احمد بارك الله فيك۔۔۔قيل انی امرت و انا اول المؤمنین یعنی اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھی دی۔۔۔۔اور لوگوں کو کہہ دے کہ میں مامور ہو کر آیا ہوں اور میں ہی اول المومنین ہوں۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 ص109۔110 حاشیہ ایڈیشن 2008)