مسیح اور مہدیؑ — Page 631
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 631 امت محمدیہ میں سلسلہ وحی والہام -36 - اُمتِ محمدیہ میں سلسلہ وحی والہام عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوا : وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟ قَالَ: الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ۔(نصر الباری جلد دواز و ہم صفحہ 325 ناشر مکتبہ الشیخ بہادر آباد کراچی 221 ترجمہ: حضرت ابو ہریر کا بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت میں سے صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا مبشرات سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا۔رویائے صالحہ (یعنی نیک خواہیں بھی مبشرات میں سے ہیں۔) تشریح بخاری کے علاوہ یہ حدیث ابوداؤد، مسند احمد اور ابن ماجہ میں بھی مروی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ اختیار کر نیوالے خدا کے پیاروں کو رؤیا والہام کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ : (یونس : 64-65) یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور وہ تقوی پر عمل پیرا تھے۔اُن کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔ط 222 مومنوں کے لئے اس آیت میں موجود الفاظ بشری کی تفسیر کی بابت جب رسول کریم سے استفسار کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد نیک خواہیں ہیں جو خود ایک مومن کو یا اس کی خاطر کسی کو دکھائی جاتی ہیں۔(جامع ترمذی اردو جلد دوم صفحه 154-155 مترجم مولا نا بدیع الزمان نعمانی کتب خانہ لاہور ) نیز استقامت اختیار کرنے والے مومنوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ ه حم السجدة: 31) یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے، پھر استقامت اختیار کی ، ان پر بکثرت فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف نہ کرو اور غم نہ کھاؤ