مسیح اور مہدیؑ — Page 610
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 610 خاتم النبیین۔۔قصر بات کی آخری اینٹ پس اس حدیث کا مطلب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلسلہ نبوت و شریعت مکمل فرمایا۔حدیث میں لفظ خاتم کے مجازی معنے آخری بھی لئے جائیں تو بھی النبیین پر جو ال تخصیص کے لئے آیا ہے اس سے مراد شریعت والے نبی ہیں۔پس خاتم النبیین کے معنی ہوں گے وہ آخری صاحب شریعت نبی جن کے بعد نہ کوئی نئی شریعت یا نئی کتاب آئے گی نہ نئے احکام آئیں گے۔حضرت بانی جماعت احمد یہ رسول اللہ کے محل کی آخری اینٹ ہونے کے حوالہ سے خاتم النبیین کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی پاسکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی صفحه 6 روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 213 ایڈیشن 2008) محل کی آخری اینٹ کے محاورہ کا ایک مطلب رسول اللہ کی بلندشان کا بیان ہے۔حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: پس جس شخص کے دل کو خدائے تعالٰی اپنی توفیق خاص سے اس طرف ہدایت دے گا کہ وہ الہام اور وحی پر ایمان لاوے اور ان پیش گوئیوں پر غور کرے کہ بائبل میں درج ہیں تو اسے ضرور ماننا پڑے گا کہ وہ انسان کامل جو آفتاب روحانی ہے جس سے نقطہ ارتفاع کا پورا ہوا ہے اور جو دیوار نبوت کی آخری اینٹ ہے وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 246 بقیہ حاشیہ ایڈیشن 2008)