مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 533 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 533

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 533 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب پیشگوئی کا ماخذ بھی اسرائیلی روایات ہیں جو حیات مسیح کے عقیدہ کی ترویج کا ذریعہ ہیں اور خلاف قرآن وسنت ہونے کے باعث بھی یہ قابل رد ہیں۔چنانچہ علامہ ابنِ کثیر کی روایت ہے کہ یہودی قبیلہ بنو قریظہ میں سے مسلمان ہونے والے محمد بن کعب نے بیان کیا کہ ایک شخص جو تورات اور انجیل پڑھا کرتا تھا وہ مسلمان ہوا اور اس نے بتایا کہ توریت جو اللہ نے حضرت موسیٰ“ پر نازل کی اور انجیل جو حضرت عیسی" پر نازل کی اس میں لکھا ہے کہ عیسی بن مریم روحاء کے مقام کے پاس سے حج یا عمرہ کی غرض سے گزرے گا اور ان کے ساتھ اصحاب کہف بھی ہوں گے چونکہ ابھی تک انہوں نے حج 188 نہیں کیا۔(مختصر تذكرة القرطبي جل 2 صفحه 152 دار احياء الكتب العربية ) زیر نظر حدیث کے منفر د راوی حضرت ابو ہریرہ‎ ہی ہیں۔جو اپنے عیسائی پس منظر کی بناء پر اپنی ذاتی رائے سے بعض دیگر روایات سے یہ مفہوم سمجھ کر حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کر دیتے ہیں کہ ابن مریم حج یا عمرہ یا ان دونوں کی نیت سے روحاء کی گھائی سے احرام باندھے گا۔ابو ہریرہ کی یہی روایت صحیح مسلم نے بھی بیان کی ہے۔( صحیح مسلم اردو جلد سوم صفحه 293 مترجم علامہ وحید الزمان نعمانی کتب خانہ لاہور ) مگر یہ روایت بھی ضعیف ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں کیونکہ مسلم میں اس کی مختلف تین 189 اسناد ہیں۔جن کے راویوں میں سفیان بن عیینہ میں تدلیس، دوسری روایت کے راوی لیٹ میں اضطراب اور تیسری روایت کے راوی حرملہ میں غیر ثقہ ہونے کا عیب ہے۔تہذیب التہذیب جلد 6 صفحہ 51) مزید برآں اس روایت میں روحاء سے احرام باندھنے کا ذکر ہے۔یہ مقام مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے اور حج کا مقررہ میقات نہیں ہے نہ ہی روحاء مقام کسی مقررہ میقات کے بالمقابل ہے۔190 اکمال اكمال المعلم شرح مسلم الجزء الثالث صفحه 378 دار الكتب العلمية بيروت) گویا کسی طرح بھی اس حدیث میں آنیوالے مسیح کے حج کرنے کے ظاہری معنی قبول نہیں کئے جاسکتے البتہ ایک تاویل ممکن ہے کہ اس حدیث کو کسی اسرائیلی نبی کا مکاشفہ سمجھا جائے اور اسے اسرائیلی مسیح کے روحانی حج کی پیشگوئی سے تعبیر کیا جائے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پوری ہو چکی۔جیسا کہ ایک اور روایت میں حضرت مسیح عیسی بن مریم کے طواف سے فارغ ہو کر