مسیح اور مہدیؑ — Page 532
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 532 مسیح موعود کے حج کی پیشگوئی کا مطلب ہو گئے تو قلمی جہاد کے اس زمانہ میں اسلام کے دفاع اور غلبہ کی خاطر سلطان القلم حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنی زندگی میں کثرت سے تصنیف و تالیف کا کام کیا اور قریباً پچاسی کتب تصنیف کر کے شائع فرمائیں۔ان دینی مصروفیات کے باعث 1901ء میں قادیان میں کم و بیش چھ ماہ تک ظہر و عصر کی نمازیں جمع کی جاتی رہیں۔ہر چند کہ طبعا اور فطرتا حضرت بانی جماعت احمد یہ نماز وقت پر ادا کرنے کا بہت اہتمام فرماتے تھے ، دینی خدمات کی مجبوری سے نمازیں جمع کرنے کی یہ نوبت آئی تو آپ نے مذکورہ بالا حدیث اس صورتحال پر چسپاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: میں اللہ تعالی کی تفہیم ، القاء اور الہام کے بدوں نہیں کرتا۔جہاں تک خدا تعالیٰ نے اس جمع صلوتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَهُ الصَّلَوةُ کی بھی ایک عظیم الشان پیشگوئی کی تھی ، جو اب پوری ہو رہی ہے۔میرا یہ بھی مذہب ہے کہ اگر کوئی امر خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر ظاہر کیا جاتا ہے مثلاً کسی حدیث کی صحت یا عدم صحت کے متعلق تو گو علمائے ظواہر اور محدثین اس کو موضوع یا مجروح ہی ٹھہرا دیں مگر میں اس کے مقابل اور معارض کی حدیث کو موضوع کہوں گا اگر خدا تعالیٰ نے اس کی صحت مجھ پر ظاہر کر دی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 45 ایڈیشن 1988) البتہ حدیث کے آخری حصے میں مسیح موعود کے حج یا عمرہ کرنے کے بارہ میں شک کا اظہار پایا جاتا ہے۔اس مشکوک فقرہ کے یہ الفاظ ابن مریم روحاء مقام پر اترے گا اور وہاں سے حج کرے گا یا عمرہ کرے گا یا حج و عمرہ دونوں کرے گا محل نظر ہونے کی وجہ سے امام بخاری نے قبول نہیں کیے۔واقعہ یہ ہے کہ اگر پیشگوئی کے یہ الفاظ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے تو ان میں شک کی بجائے قطعیت ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرکا سے یہ حدیث بیان کرنے والے راوی حنظلة بھی اس حدیث کے آخری حصہ کے بارہ میں متردد ہو کر کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں یا حضرت ابو ہریرہ کی ذاتی رائے ہے۔( مسند احمد بن حنبل مترجم جلد چہارم صفحہ 202۔ملاحظہ ہو حوالہ 187) دراصل حضرت ابو ہریرہ عیسائیوں میں سے مسلمان ہوئے تھے اور اسرائیلی مسیح کے حج کی