مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 313 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 313

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 313 قیامت سے پہلے دس نشانات (1) مسیح موعود کا ظہور مرکزی نشانی ہے۔باقی تمام نشانیاں گویا اس کے گرد گھومتی ہیں، جن کا کمال شان کے ساتھ اس زمانے میں پورا ہو جانا ثابت کرتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کی نشانی بھی پوری ہو چکی ہے جس کا دعویٰ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی" بانی جماعت احمد یہ تیرھویں صدی میں کر کے تمام نشان اپنے حق میں پیش بھی فرما چکے ہیں۔دوسری اور تیسری نشانی دجال اور یا جوج ماجوج کا ظہور ہے جس سے ترقی یافتہ مغربی اقوام اور بالخصوص مسیحی قوم کے دنیوی اور دینی علماء مراد ہیں جن کی مذہبی اور دینی شکست دلائل کے میدان میں مسیح موعود کے ذریعہ مقدر تھی۔سو اسلام کے بطل جلیل حضرت بانی جماعت احمدیہ کے ذریعہ یہ دونوں نشان بھی بڑی شان سے پورے ہو چکے ہیں۔جس کی تفصیل الگ عنوان کے تحت کتاب ہذا کے صفحہ 349 تا385 پر دی جاچکی ہے۔چوتھی نشانی مسیح موعود کے زمانہ میں مغرب سے سورج کا طلوع ہونا تھا جس کے ظاہری معنے نظام عالم درہم برہم ہوئے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔دراصل اس محاورہ کا ایک مطلب یہ تھا کہ یورپ سے علم کا سورج چڑھے گا جس سے دنیا روشنی پائے گی۔دوسرے معنے کے لحاظ سے مغرب سے اسلام کا سورج طلوع ہونا بھی ہو سکتا ہے، جس کا گہرا تعلق مغربی اقوام کی مذہبی و دینی شکست سے بھی ہے کیونکہ مسیح موعود کی جماعت کے غلبہ کا سلسلہ مغرب میں شروع ہونا تھا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے یہ معنے سمجھائے۔آپ فرماتے ہیں: آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے سے مراد جیسا کہ ایک رویا میں ظاہر کیا گیا ہے کہ مغربی ممالک آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“ اسی طرح فرمایا: ملخص از ازالہ اوہام صفحہ 515 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 376-377 ایڈیشن 2008) ” خدا نے میرے ذریعہ اسلام کے سورج کو جس وقت وہ غروب ہو رہا تھا۔۔۔پھر مغرب سے طلوع کیا۔“ خطبہ الہامیہ صفحہ 167 روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 253 ایڈیشن 2008) آج سے سو سال قبل شاید کوئی اس حقیقت سے انکار کر دیتا جب مغرب میں احمدیت کا آغاز ہورہا تھا لیکن