مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 197 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 197

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 197 مسیح موعود اور امام مہدی کے مشترکہ کام مسیح اور مہدی مذہب کی خاطر جنگ نہیں کریں گے اور تلوار نہیں اٹھائیں گے جیسا کہ صحیح بخاری کی دوسری روایت میں يَضَعُ الحَرب کے الفاظ سے ظاہر ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنگ کو کالعدم کریں گے۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ مسیح موعود کے زمانہ میں بوجہ مذہبی امن جہاد بالسیف کی شرائط پوری نہیں ہوں گی۔اس لئے وہ دلائل کی قوت سے اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کرے گا اور انہیں شکست فاش دے گا۔مہدی کے بارہ میں بھی یہی علامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی کہ وہ خون نہیں بہائے گا۔( سنن الدائی صفحہ 95 بحوالہ عقد الدرر فی اخبار المنتظر صفحہ 63 مطبع عالم الفکر قاہرہ ) شیعہ کتب میں بھی امام مہدی کے زمانہ میں جنگوں کے موقوف ہونے کا ذکر ہے۔( بحارالانوار جلد 11 صفحہ 145 محفوظ بک ایجنسی کراچی ) 70 حضرت بانی جماعت احمد یہ فرماتے ہیں: احادیث نبویہ میں آخری زمانہ کی نسبت یہ خبر دی ہے کہ جب آخری زمانہ میں مسیح موعود آئے گا تو وہ دنیا میں صلح کاری کا پیغام دے گا اور جنگ موقوف کرے گا یعنی ملا لوگوں کی غلط کاریوں سے جو دینی جنگ کیے جائیں گے ان کی رسم دور کر دے گا۔۔۔اور یہ حدیث نہایت درجہ پر صحیح ہے کیونکہ جب کہ ہمارے رسول اللہ نے دین کو جبراً پھیلانے کے لئے کوئی لڑائی نہیں کی بلکہ وہ صرف دفاعی جنگ تھی۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 395۔396 ایڈیشن 2008) تقسیم مال: اسی طرح اس حدیث میں مذکورہ ایک نشانی یہ ہے کہ مسیح موعود مال کی طرف بلائے گا اور کوئی اسے قبول نہ کرے گا۔اس سے مراد بھی دنیوی مال نہیں ہو سکتا جس سے کوئی انسان کبھی بھی لینے سے انکار نہیں کرتا۔جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ: اگر انسان کے پاس مال کی دو دادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہشمند ہوگا ، اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔72 نصر الباری جلد یاز دهم صفحه 442 مكتبة الشیخ کراچی) پس مسیح موعود کے مال تقسیم کرنے سے مراد روحانی خزانے ، قرآنی معارف اور دین کے حقائق ہیں جن سے دنیا والے دور بھاگتے ہیں اور دنیا کی طمع و حرص میں دین اور روحانیت قبول نہیں کرتے