مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 678 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 678

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 678 انبیاء کی بشریت اور بُھول چوک کا امکان ك قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ : (الكهف: (111) یعنی کہہ دے کہ میں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔رسول اللہ سید الاولین والآخرین تھے مگر ہمیشہ لا فخر ( مجھے کوئی فخر نہیں ) کا نعرہ زبان پر رہا اور صاحب فضیلت ہو کر بھی آپ نے ہمیشہ کمال انکساری دکھائی۔آپ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان نزاع کے وقت بھی بغرض تواضع اور صلح جوئی یہی تعلیم فرماتے رہے کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دو۔(بخاری کتاب الخصومات بَابُ مَا يُذْكَرُ فِى الإِشْخَاصِ وَالخُصُومَةِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَاليَهُود) اسی طرح آپ اپنے صحابہ کو ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ میری تعریف میں حد سے مت بڑھو۔(بخاری کتاب احادیث الانبياء بَابُ قَوْلِ اللهِ وَاذْكُرُ فِي الكِتَابِ مَرْيَمَ۔۔) الغرض رسول کریم نے کبھی بشریت کا دامن نہیں چھوڑا۔بے شک آپ خدا کا نور بن کر اترے تھے مگر بشریت کا جامہ بھی نہیں اتارا۔پس آپ تو رانی بشر تھے۔آپ نے کبھی عالم الغیب ہونے کا دعوی نہیں فرمایا بلکہ اگر کبھی کسی نے علم غیب آپ کی طرف منسوب کیا تو اسے منع کر دیا۔(جامع ترمذی اردو جلد دوم صفحہ 108 مترجم مولا ناعلی مرتضی طاہر ) جس قدر علم خد تعالی آپ کو عطا فرما تا اس کا اظہار فرما دیتے اور حسب ارشاد خداوندی مزید علم کے اضافہ کی یہ دعا کرتے : رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ه ( 1 : 115 ) یعنی اے میرے رب ! مجھے علم میں بڑھا دے۔ہر انسان کی طرح رسول کریم سے بھی بھول چوک ہو جاتی تھی۔اگر کبھی آپ نے ظہر یا عصر کی رکعات چار کی بجائے دو یا پانچ پڑھا دیں تو اپنی بشریت کا اقرار کرتے ہوئے صحابہ سے یہی فرمایا کہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں جیسے تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں نیز فرماتے تھے کہ میرا بھولنا بھی ایک سنت ہے۔( صحیح بخاری اردو جلد اول صفحه 200 مترجم علامہ وحید الزمان حذیفہ اکیڈمی لاہور ) 238 رسول اللہ ﷺ کے بھولنے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ تا بعد میں نماز وغیرہ میں بھولنے والے