مسیح اور مہدیؑ — Page 664
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 664 غلامان مسیح محمدی کا مقام مستند امام احمد بن فضیل ترسید مترجم عکس حوالہ نمبر: 231 مسند أبي هريرة منه بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَلَانٍ قَالَ سُلَيْمَانُ كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيْنِ مِنَ الظَّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأَخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَضَلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَضَلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ اصححه ابن خزيمة: (٥٢٠)۔قال الألباني: صحيح (النسائي: ١٦٧/٢، ابن ماجة: ۸۲۷)۔قال شعیب اسناده قوی [ انظر: ١٠٩٨٥،٨٣٤٨]۔Y (۷۹۷۸) حضرت ابو ہریرہ ہی اللہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ہی کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی پہنا کے سب سے مشابہ ہو، سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتا لمبا اور آخری دور کعتوں کو مختصر پڑھتا تھا، عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا، مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا ، عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قراءت کرتا تھا۔( ٧٩٧٩) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلاء بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى قَرَابَةٌ أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأَحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِينُونَ إِلَى وَاحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنتَ كَمَا تَقُولُ فَكَأَنَّمَا تُسِفُهُمُ الْمَل وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ صححه مسلم (٢٥٥٨)، و ابن حبان (٤٥١))، (انظر: ۱۰۲۸۹۰۹۳۳۲] (۷۹۷۱) حضرت ابو ہریرہ ہی خدا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی پیدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں، میں ان سے در گذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں، نہیں دپیکا نے فرمایا اگر واقع حقیقت اس طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو، اور جب تک تم اپنی اس روش پر قائم رہو گے، اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔(۱۹۸۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَدُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أتى إلَى الْمَقْبَرَةِ فَسَلَّمَ عَلَى أهْلِ الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لاحِقُونَ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ السنا بإخوانِكَ قَالَ بَلْ أَنتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ ن أمكَ بَعْدُ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ لَهُ خَيْل عَرَ مُحَجَّلَة بَيْنَ ظهرَانَي عَيْل بهم دُهُم أَلَمْ يَكُن يَعْرِفُهَا قَالُوا بَلَى قَالَ تكْنُ يَعْرِلُهَا قَالُوا بَلَى قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تَبْدَادَنَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ عَنْ حَوْضِى كَمَا يُدَادُ الْبَعِيرُ الضَّال أَنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ بَتَلُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا اصححه مسلم (٢٤٩)، وابن عزيمة: (٦)]۔