مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 37 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 37

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 37 تفسیر نبوی کی رو سے وفات عیسی کا قرآن سے ثبوت نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے توفی کے معنی وفات پا کر زمین میں دفن ہونا لیے جائیں۔لغت کی ایسی خلاف ورزی علمی بے انصافی ہی نہیں ہمارے آقا ومولیٰ کی شان میں بے ادبی اور گستاخی بھی ہے۔جو ایک سچے مسلمان کی غیرت کے خلاف ہے۔غیرت کی جا ہے عیسی زندہ ہو آسماں پر مدفون ہوز میں میں شاہ جہاں ہمارا پس بخاری شریف میں سورۃ المائدۃ کی اس آیت کی بیان فرمودہ تفسیر نبوی سے صاف واضح ہوتا ہے کہ توفی کا لفظ اس جگہ اپنے لغوی معنی موت میں ہی استعمال ہوا ہے۔اس سے قبل سورۃ آل عمران کی آیت يَعِیسَی اِنّى مُتَوَفِّیک (آل عمران : 56 ) میں بھی دراصل حضرت عیسی سے اسی طبعی موت کا وعدہ تھا کہ اے عیسی میں تجھے طبعی موت دوں گا یعنی یہود حضرت عیسی کے خلاف اپنے مکروں اور سازشوں میں ہرگز کامیاب نہ ہوں گے بلکہ وہ الٹی تدبیروں کے نتیجہ میں ان کے منصوبہ سے بیچ کر عزت و رفعت کا بلند مقام پائیں گے، جیسا کہ حدیث معراج میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ رسول کریم نے حضرت یحییٰ اور عیسی علیھما السلام دونوں سے بیک وقت دوسرے آسمان پر ملاقات کی تو وہ ان کی روحیں ہی تھیں اور سورۃ المائدہ کی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي میں اسی وعدہ ( آل عمران : 56) ( یعنی طبعی موت ) کے پورا ہونے کا ذکر ہے۔چنانچہ واقعہ صلیب سے معجزانہ طور پر نجات کے بعد قرآن وحدیث کے علاوہ تاریخی وطبتی شواہد کے مطابق حضرت مسیح ناصرٹی نے کشمیر کی طرف ہجرت کی (المومنون : 51) اور حدیث نبوی کے مطابق 120 سال عمر پا کر وفات پائی۔( کنز العمال جلد 11 صفحہ 479 مؤسسة الرسالة ) حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: اس آیت میں حضرت عیسی اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں اس دنیا میں واپس نہیں گیا کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کونسا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کر کے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ، سراسر جھوٹ ہوگا۔نعوذ بالله منه چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 229-230 ایڈیشن 2008)