مسیح اور مہدیؑ — Page 441
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 441 مسیح و مہدی کو رسول اللہ کا سلام سلامتی کے اس پیغام میں یہ اشارہ بھی تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس مامور زمانہ سے بھی مخالفت اور لعنت و ملامت کا سلوک ہوگا مگر اپنے بچے امتیوں سے رسول کریم نے سلامتی کے پیغام کی توقع رکھتے ہوئے انہیں اس مسیح موعود کے ماننے اور قبول کرنے کی تاکید کی۔تاہم چونکہ محض سلامتی کا پیغام پہنچانے کی ادھوری اطاعت باعث فضیلت ہونے کے باوجود موجب نجات نہیں ہوسکتی۔اسی لئے رسول اللہ نے مسیح و مہدی کی بیعت کا ارشاد کرتے ہوئے فرمایا: فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْحَبُوا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ 155/ (سنن ابن ماجه ار دو جلد سوم صفحه 452 مترجم سید مجتبی سعیدی مکتبہ اسلامیہ لاہور ) کہ جب تم اس مہدی کو دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ گھٹنوں کے بل برف پر چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے۔ابن ماجہ کی ہی دوسری روایت میں رسول اللہ نے اس امام کی نصرت اور مدد کرنے کے ساتھ اسے قبول کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ان احادیث سے ظاہر ہے کہ مسیح و مہدی کو قبول کرنا اور اس کی بیعت کر کے مدد کرنا کتنا ضروری اور لازمی ہے۔بعض اور روایات میں اس مہدی کی تائید میں آسمان خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِی کی آواز آنے کا جو ذکر ہے اس سے مراد آسمانی نشانوں کا ظہور ہے < جس کے بعد مہدی کی قبولیت پھیلے گی۔مزید برآں سنی اور شیعہ مسلک کی احادیث بھی اس پر متفق ہیں کہ جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو نہ پہنچا نا وہ جاہلیت کی موت مر گیا۔( صحیح مسلم اردو جلد دوم صفحہ 733 متر جم محمدمحی الدین شبیر برادرز لا ہور۔كمال الدين و تمام النعمة مجلد دوم صفحه (120 جہاں تک مسیح موعود و مہدی معہود کے مقام کا تعلق ہے تو یہ وہ عظیم الشان امام ہے جس کے بارہ میں روایت ہے کہ امت میں ایک ایسا خلیفہ بھی ہوگا جو ابو بکر و عمر سے بھی افضل ہوگا۔المصنف ابن ابی شیبه جلد 21 صفحه 293 دار قرطبة (بيروت) 157 امام محمد بن سیرین تابعی نے اس آنے والے مہدی کو ابوبکر و عمر سے افضل اور نبی کے برابر قرار دیا