مسیح اور مہدیؑ — Page 388
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 388 دخال و یا جوج ماجوج پر مسیح موعود اور جماعت کا علمی و روحانی غلبہ دجال کی ظاہری علامات میں ایک آنکھ سے کانا اور ماتھے پر ک۔ف۔‘“ لکھا ہونے جیسی علامت تو مشہور عام ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اس کشفی نظارہ پر مبنی پیشگوئی کو استعارہ پر محمول کرتے ہوئے قرآن وحدیث کی رو سے یوں وضاحت فرمائی: قرآن شریف۔۔۔عیسائیت کے فتنہ کو وہ بہت بڑا بیان کرتا ہے جو اسلام کے تمام اصول کا دشمن ہے اور کہتا ہے کہ قریب ہے کہ اُس سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور اسی فرقہ کو خدا کے کلام کا محترف مبدل ٹھہراتا ہے اور جس فعل میں مفہوم دجل درج ہے وہ فعل اسی فرقہ کی طرف منسوب کرتا ہے اور سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ عیسائیت کے فتنہ سے خدا کی پناہ مانگیں جیسا کہ وَلَا الضَّالین کے معنی تمام مفسرین نے یہی کئے ہیں۔پس قرآن شریف کے اس فیصلہ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جس فتنہ سے حدیثوں میں ڈرایا گیا ہے وہ صلیبی فتنہ ہے اور اس میں کیا شک ہے کہ جب تھوڑے سے دجل کی کارروائی سے انسان دجال کہلا سکتا ہے تو جس فرقہ نے تمام شریعت اور تعلیم کو بدل دیا ہے کیا وجہ کہ وہ دجال نہیں کہلا سکتا ؟ اور جبکہ خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کے دجل کی خود گواہی دی ہے تو کیا وجہ کہ وہ دجال کے نام سے موسوم نہ ہوں ؟۔“ تتمہ حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 497 ایڈیشن 2008) و صحیح بخاری میں جس فتنہ کا نام فتنہ صلیب رکھا ہے اور مسیح موعود کو صلیب کا توڑنے والا قرار دیا ہے صحیح مسلم میں اس فتنہ کا نام فتنہ دجال رکھا ہے اور کسر صلیب کو بطور قتل دجال قرار دیا ہے۔“ تمہ حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 496 ایڈیشن 2008) ر قبال کے لفظ کی دو تعبیریں کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ دجال اُس گروہ کو کہتے ہیں جو جھوٹ کا حامی ہو اور مکر اور فریب سے کام چلا ہے۔دوسری یہ کہ دجال شیطان کا نام ہے جو ہر ایک جھوٹ اور فساد کا باپ ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 326 ایڈیشن 2008) د قبال جس سے مراد عیسائیت کا بھوت ہے ایک مدت تک گرجا میں قید رہا ہے اور اپنے دجالی تصرفات سے رُکا رہا ہے مگر اب آخری زمانہ میں اس نے قید سے پوری رہائی پائی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 44-45 ایڈیشن 2008) پس فتح قسطنطنیہ کے بعد رہائی پاکر ظاہر ہونیوالا یہی وہ دجالی گروہ ہے جس نے پندرہویں صدی عیسوی (بمطابق نویں صدی ہجری) میں خروج کیا اور تین صدیوں میں رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے